ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے ورنہ نتائج بھگتے گا، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ ڈیل نہ کرنے کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ نیوکلیئر مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل ہوں گے اور یہ بات چیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
ان کے اعلیٰ معاونین اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر جنیوا روانہ ہو چکے ہیں جہاں آج امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان جوہری پروگرام پر دوسرے مرحلے کی بات چیت ہوگی۔
ٹرمپ نے ایرانی مذاکرات کاروں کو سخت ڈیلرز قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ لچک دکھائیں گے۔
مزید پڑھیںایران کیساتھ معاہدے کا ہوجانا اب بہت مشکل ہوگیا، امریکی وزیر خارجہ نے وجہ بتادی
امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے، خبرایجنسی
گزشتہ سال مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔
صدر سے جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور بورڈ آف پیس اجلاس سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ عمل غزہ سے کہیں آگے جائے گا اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرے۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں غیر ملکی میڈیا پر پابندی کے سوال پر ٹرمپ نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا، تاہم کہا، جلد بہت سی پابندیاں اٹھتی نظر آئیں گی، آپ دیکھیں گے سب کچھ کھل رہا ہے۔ کہیں کہیں چنگاریاں ہیں، مگر بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ میں امن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔