رمضان المبارک اور اردو زبان قارئین کیلئے ایک خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ہماری دانست میں ماہِ مبارک رمضان میں ہر مسلمان اور ہر طالبِ معرفت کیلئے یہ موقع ہے کہ وہ سید ابن طاووسؒ کی عظیم روحانی تصنیف إِقْبَالُ الْأَعْمَالِ کی پہلی جلد اپنے پاس رکھے، تاکہ ماہِ رمضان کی برکتیں اپنی زندگی میں محسوس کرسکے۔ ہمیں فکر کرنی چاہیئے کہ اس مرتبہ کہیں ہمارا ماہِ مبارکِ رمضان "اقبالُ الاعمال" کے بغیر نہ گزر جائے۔ آج ہی اپنے لیے اس جلد کو حاصل کریں اور رمضان کے ہر لمحے کو اعمال کی قبولیت، دل کی سکونت اور روح کی بیداری کیلئے خاص بنائیں۔ یہ کتاب ہر مسلمان کیلئے روحانی رہنمائی اور معرفت کا گراں بہا خزانہ ہے۔ آپ نے اپنی زندگی میں بہت ساری کتابوں کا مطالعہ کیا ہوگا۔ اس ماہِ مبارک رمضان میں اس ایک کتاب کا مطالعہ ہمارے کہنے پر بھی کرکے دیکھ لیجئے۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
ماہِ مبارک رمضان کا آغاز ہُوا چاہتا ہے۔ اس مہینے میں آپ یقیناً بہت ساری دعائیں پڑھتے ہونگے۔ اس کے باوجود شاید آج تلک آپ کو معصومین ؑ کی دُعاوں پر مشتمل ایک ایسی کتاب کا عِلم نہ ہو، جو آج سے سات سو سال پہلے تالیف کی گئی ہے۔ ایسی کتاب سے ہماری مراد "إِقْبَالُ الْأَعْمَالِ" ہے اور یہ تصنیف ہے سید ابن طاووسؒ کی۔۔ اگر کسی نے ماہِ مبارک رمضان کے اعمال، دعاؤں اور زیارات کا جامع خزانہ دیکھنا ہو تو وہ اس کتاب کو دیکھے، نیز یہ کتاب باطن کی طہارت، دل کی صفائی، روح کی روشنی اور عقل و شعور کی ہم آہنگی کی راہ بھی دکھاتی ہے۔ یقین جانیئے، اس کا ہر صفحہ قاری کے دل کو نورانی کرتا ہے اور ہر دعا معرفت کے درجات کو بلند کرتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کتاب کا اسلوب نہایت روحانی، انداز انتہائی فصیح، عبارتیں نہایت بلیغ اور اس کی نثر ایسی موزوں ہے کہ دل کو مائل اور روح کو قائل کرتی ہے۔
اردو زبان قارئین کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ پہلی مرتبہ اس کتاب کا اردو ترجمہ منظرِ عام پر آگیا ہے۔ جہاں تک اس کے ترجمے کے بارے میں ہمارے مشاہدے کا تعلق ہے تو ہماری رائے میں فاضِل مترجم ِحجّۃ الاسلام مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب نے ترجمہ کرتے ہوئے اصل عبارت کی روحانی لطافت اور جملہ بندی کی عرفانی دلکشی کی خوب رعایت کی ہے۔ یہ ترجمہ آج کی اُردو زبان کے جدید تقاضوں کے مطابق فصیح و بلیغ ہونے کے ساتھ ساتھ سلیس اور رواں بھی ہے۔ چنانچہ نوجوانوں، جوانوں اور بزرگان کیلئے یکساں طور پر مفید ہے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ کوشش کریں کہ اس سال آپ کا یہ مبارک مہینہ اس کتاب کے ساتھ بسر ہو۔ اس وقت ماہِ مبارک رمضان میں یہ ترجمہ جامعۃ الرضا اسلام آباد سے دستیاب ہے۔
کتاب کے بارے میں مزید کچھ بات کرنے سے پہلے مصنِّف کے بارے میں چند باتیں جان لیجئے۔ بلاشبہ کتاب کی مانند اس کے مصنِّفؒ بھی لاجواب شخصیّت کے حامل ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان السَّيِّدُ رَضِيُّ الدِّينِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَىٰ بْنِ طَاوُوسٍ الْحِلِّيُّ (۵۸۹–۶۶۴ھ) کو دعا نویسی کا عَلَم بردار اور اس فن کا امام مانا جاتا ہے۔ آپ دینِ اسلام کی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ اپنے شدید ورع و تقویٰ، اعلیٰ اخلاق، پاکیزہ سیرت اور عرفانی کیفیات کے باعث انہیں "جَمَالُ الْعَارِفِينَ" کا لقب دیا گیا۔ آپ کے اساتذہ و تلامذہ کی ایک طویل فہرست ہے، جن میں الْعَلَّامَةُ الْحِلِّيُّ اور ان کے والد الشَّيْخُ يُوسُفُ سَدِيدُ الدِّينِ زیادہ نمایاں ہیں۔ انہوں نے اپنی حیاتِ علمی حِلّہ، بغداد، نجف، کربلا، کاظمین اور سامرہ میں بسر کی۔ انہیں صاحبِ کرامات شمار کیا گیا ہے اور امامِ زمانہؑ سے ان کی والہانہ عقیدت ان کی تحریروں میں جابجا نمایاں ہے۔ خود الْعَلَّامَةُ الْحِلِّيُّ نے فرمایا کہ سید بن طاووسؒ صاحبِ کرامات تھے، ان کی بعض کرامات علامہ حِلّی نے خود بیان کیں اور بعض انہوں نے اپنے والدِ گرامی سے روایت کیں۔
اس وقت ہم آپ کی ایک کتاب "إِقْبَالُ الْأَعْمَالِ" کے بارے میں اپنی کچھ معروضات پیش کرنے جا رہے ہیں۔ اس کتاب میں معصومینؑ کی دعاؤں، زیارات اور سال بھر کے اعمال کو نہایت اہتمام کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔ کتاب اقبال الاعمال، شیعہ مجتہدین و مراجع کے نزدیک ایک اہم ماخذ و منبع کا درجہ رکھتی ہے۔ شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں بہت سے متون اقبال الاعمال سے نقل کئے ہیں۔ اسی طرح اس کتاب کی تصنیف کے بعد کے تقریباً تمام تر محققین نے ادعیہ اور زیارات کے موضوع میں اس کتاب سے استفادہ کیا ہے۔ اہلِ علم کے نزدیک یہ دعا نویسی کے باب میں سب سے اہم، مفصل اور معتبر تصنیف شمار ہوتی ہے۔ اس میں سال کے بارہ مہینوں کے اعمال مذکور ہیں، البتہ ماہِ رمضان کی اہمیّت کے پیشِ نظر اس مہینے کے اعمال ایک مستقل حصے الْمِضْمَارِ کے عنوان سے الگ جلد میں جمع کیے گئے ہیں۔
صرف عمل و عبادت تک محدود نہیں بلکہ اس میں معرفت و حکمت، عقل و ضمیر کی روشنی اور روحانی بصیرت بھی سمائی ہوئی ہے۔ اس کتاب میں جہاں ہر قمری مہینے کے اعمال اور نمازیں بیان کی گئی ہیں، وہیں روحانی بصیرت، باطنی آداب اور قلبی صفات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ محققین کے مطابق تألیفِ إِقْبَالِ الْأَعْمَالِ کے وقت مصنِّف ؒکے پاس پندرہ سو جلدوں پر مشتمل کتب موجود تھیں۔ خود انہوں نے اپنی کتاب كَشْفُ الْمَحَجَّةِ میں تصریح کی ہے کہ ان میں ساٹھ سے زائد جلدیں صرف ادعیہ پر مشتمل تھیں۔ نیز آقا بزرگ طہرانی نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب الذَّرِيعَةُ میں لکھا ہے کہ جب وہ مُهَجُ الدَّعَوَاتِ کی تصنیف میں مشغول تھے تو قدیم امامیہ کی ستر سے زائد دعائیہ کتب ان کے پیشِ نظر تھیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ إِقْبَالُ الْأَعْمَالِ محض اعمال و عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ عرفانی نکات، روحانی اشارات اور تاریخی واقعات کا مرقع بھی ہے۔ اس میں دعا کے ظاہری آداب کے ساتھ باطنی رسوم کی تلقین اور متعدد تاریخی واقعات جیسے واقعۂ مباہلہ، واقعۂ غدیر اور نماز میں انگشتری عطا کرنے کا واقعہ وغیرہ کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اسی طرح بعض مباحث، مثلاً امیرالمؤمنینؑ کی قبر کے مقام کے تعیین اور دحو الارض کی توضیح بھی اس میں مذکور ہے۔ انہوں نے اپنی اس کتاب کو اپنی دیگر دعائیہ تصانیف کے ساتھ مل کر "مِصْبَاحُ الْمُتَهَجِّدِ از الشَّيْخِ الطُّوسِيِّ" کا متمم و مکمّل قرار دیا ہے۔ سید ابنِ طاووس نے اپنی کتاب فَلَاحُ السَّائِلِ کے مقدمے میں ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے جدِّ بزرگوار الشَّيْخُ الطُّوسِيُّ کی کتاب مِصْبَاحُ الْكَبِيرِ کے تتمات تحریر کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ کتاب إِقْبَالُ الْأَعْمَالِ اُن تتمات میں آٹھویں کتاب قرار پائی۔
انہوں نے اس کی تالیف کا آغاز سنہ ۶۵۰ ھ میں کیا اور چونکہ ان کی ولادت ۵۸۹ ھ میں ہوئی تھی، اس لحاظ سے اُس وقت ان کی عمر تقریباً ساٹھ برس تھی۔ سید ابنِ طاووس نے کتاب کے خاتمے میں تصریح کی ہے کہ وہ اس کی تالیف سے بروز پیر ۱۳ جمادی الاولیٰ ۶۵۵ھ کو فارغ ہوئے اور یہ تکمیل حائرِ حسینی ؑ میں ہوئی۔ عموماً السَّيِّدُ ابْنُ طَاوُوسٍ کتاب إِقْبَالُ الْأَعْمَالِ میں جن روایات کو نقل کرتے ہیں، اُن کے متن میں کوئی تصرّف نہیں کرتے، بلکہ روایت کو بعینہٖ اسی طرح ذکر کرتے ہیں۔ البتہ اگر کوئی دعا مأثور (یعنی معصومینؑ سے منقول) نہ ہو تو وہ اس کی صراحت کر دیتے ہیں کہ یہ انشائی دعا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے دعاؤں کے علاوہ سال کے ہر قمری مہینے کے مخصوص اعمال اور ان میں وارد شدہ نمازوں کا بھی تفصیلی ذکر کیا ہے۔
توجہ رہے کہ بہت سے مقامات پر وہ دعا یا روایت کو مکمل سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں اور بعض موارد میں صرف اُس کتاب تک اپنی سند بیان کرتے ہیں، جس سے وہ دعا یا عمل نقل کر رہے ہوتے ہیں۔ کئی جگہوں پر انہوں نے قاری کے لیے تمہیدی کلمات بھی تحریر کیے ہیں، تاکہ موضوع کی بہتر تفہیم ہوسکے۔ مثال کے طور پر ماہِ رمضان کے اعمال ذکر کرنے سے پہلے ایک مقدمہ بیان کیا، جس میں ماہِ رمضان کی عظمت، روزہ رکھنے کی حکمت اور اُن روایات کا ذکر کیا، جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ سال کی ابتدا ماہِ رمضان سے ہوتی ہے۔ نیز اس مسئلے میں مختلف آراء کی طرف اشارہ کیا اور روزہ داروں کے طبقات و اقسام کو بھی واضح کیا، وغیرہ۔ یہ کتاب دراصل السَّيِّدُ ابْنُ طَاوُوسٍ کی دو تصانیف پر مشتمل ہے اور تین اجزاء میں منقسم ہے، اور وہ دو تصنیفیں یہ ہیں: ۱۔ الْمِضْمَارُ السِّبَاقُ وَاللِّحَاقُ بِصَوْمِ شَهْرِ إِطْلَاقِ الْأَرْزَاقِ وَعِتَاقِ الْأَعْنَاقِ ۲۔ الْإِقْبَالُ بِالْأَعْمَالِ الْحَسَنَةِ فِيمَا نَذْكُرُهُ مِمَّا يُعْمَلُ مِيقَاتًا وَاحِدًا كُلَّ سَنَةٍ
پہلی تصنیف میں انہوں نے ماہِ رمضان کے اعمال و ادعیہ اور اس مبارک مہینے میں بندے کا اپنے مولا کے ساتھ برتاؤ اور روحانی طرزِ عمل کس طرح ہونا چاہیئے، اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ نیز پہلے حصے میں شوال، ذی القعدہ اور ذی الحجہ جیسے تین مہینوں کے فضائل و فوائد بیان کئے ہیں۔ دوسری تصنیف میں سال کے باقی مہینوں کے اعمال ذکر کیے گئے ہیں اور وہ دو حصوں پر مشتمل ہے: دوسرے حصے میں باقی تمام مہینوں کے اعمال بیان کیے گئے ہیں۔ ہماری دانست میں ماہِ مبارک رمضان میں ہر مسلمان اور ہر طالبِ معرفت کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ سید ابن طاووسؒ کی عظیم روحانی تصنیف إِقْبَالُ الْأَعْمَالِ کی پہلی جلد اپنے پاس رکھے، تاکہ ماہِ رمضان کی برکتیں اپنی زندگی میں محسوس کرسکے۔
ہمیں فکر کرنی چاہیئے کہ اس مرتبہ کہیں ہمارا ماہِ مبارکِ رمضان "اقبالُ الاعمال" کے بغیر نہ گزر جائے۔ آج ہی اپنے لیے اس جلد کو حاصل کریں اور رمضان کے ہر لمحے کو اعمال کی قبولیت، دل کی سکونت اور روح کی بیداری کے لیے خاص بنائیں۔ یہ کتاب ہر مسلمان کیلئے روحانی رہنمائی اور معرفت کا گراں بہا خزانہ ہے۔ آپ نے اپنی زندگی میں بہت ساری کتابوں کا مطالعہ کیا ہوگا۔ اس ماہِ مبارک رمضان میں اس ایک کتاب کا مطالعہ ہمارے کہنے پر بھی کرکے دیکھ لیجئے۔ کتاب حاصل کرنے کیلئے یہ موبائل نمبر دیا گیا ہے: 03455398135
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اپنی زندگی میں کے بارے میں ال أ ع م ال مہینوں کے کا مطالعہ کرتے ہیں کے اعمال انہوں نے رمضان کی رمضان کے ہے کہ وہ إ ق ب ال کے ساتھ کتاب کا نے اپنی اس کتاب اور روح یہ کتاب س کتاب کتاب م گیا ہے ہے اور
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔