سندھ حکومت کی جانب سے رمضان المبارک کے لیے اشیائے ضروریہ کی سرکاری قیمتیں مقرر کر دی گئی ہیں، تاہم بازاروں میں پہلے ہی روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہو چکی ہیں۔ شہری انتظامیہ نے نرخ نامے تو جاری کر دیے ہیں لیکن مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کوئی مؤثر کارروائی دکھائی نہیں دے رہی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق زیادہ تر دکاندار، خصوصاً پھل فروش، سرکاری قیمتوں کو ’غیر حقیقت پسندانہ‘ قرار دے کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں صارفین کو کئی اشیا سرکاری نرخ سے دگنی قیمت پر خریدنا پڑتی ہیں۔

قیمتوں کا تعین کس سے مشاورت کے بعد؟

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قیمتوں کا تعین چیئرمین کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن (KWGA) رؤف ابراہیم، سبزی و فروٹ فروش نمائندگان، کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل کے چیئرمین شکیل بیگ، ڈپٹی کمشنرز، بیورو آف سپلائی اور محکمہ خوراک کے اعلیٰ حکام سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

گوشت کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

ہر سال کی طرح اس بار بھی رمضان سے قبل گوشت فروشوں نے قیمتیں بڑھا دی ہیں۔

بون لیس بچھڑے کا گوشت

سابقہ قیمت: 1600 روپے فی کلو

موجودہ مارکیٹ قیمت: 1700 تا 1800 روپے فی کلو

سرکاری مقررہ قیمت: 1600 روپے فی کلو

ہڈی والا بچھڑے کا گوشت

سرکاری قیمت: 1300 روپے فی کلو

مارکیٹ قیمت: 1400 روپے فی کلو

مٹن

سرکاری قیمت: 2200 روپے فی کلو

مارکیٹ قیمت: 2400 تا 2600 روپے فی کلو

شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامہ صرف کاغذوں تک محدود ہے جبکہ عملی طور پر مہنگے دام وصول کیے جا رہے ہیں۔

روٹی اور نان کے نرخ

انتظامیہ نے درج ذیل قیمتیں مقرر کی ہیں

100 گرام چپاتی: 14 روپے

120 گرام تندوری نان: 18 روپے

140-150 گرام نان: 21 روپے

180 گرام نان: 27 روپے

تاہم زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔

چپاتی: 15 روپے

تندوری نان: 25 تا 30 روپے

اکثر تندوروں پر وزن اور قیمت واضح طور پر درج نہیں، جس کی وجہ سے صارفین کو اصل وزن کا علم بھی نہیں ہوتا۔

آٹے اور چینی کی صورتحال

6 فروری 2026 کو کمشنر کراچی کی ویب سائٹ کے مطابق آٹے کی سرکاری قیمتیں یہ تھیں:

آٹا نمبر 2.

5: 107 روپے فی کلو

میدہ (فائن فلور): 115 روپے فی کلو

چکی کا آٹا: 130 روپے فی کلو

مگر مارکیٹ میں قیمتیں یوں ہیں:

آٹا نمبر 2.5: 130 روپے

میدہ: 140 روپے

چکی کا آٹا: 150 تا 160 روپے فی کلو

اسی طرح 14 فروری کو چینی کی سرکاری قیمت 138 روپے مقرر کی گئی، جبکہ مارکیٹ میں 145 تا 160 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔

دالیں اور دیگر کریانہ اشیا

سرکاری قیمتیں

ماش دھلی نمبر 1: 420 روپے

چنا دال نمبر 1: 230 روپے

کابلی چنا (8 ملی میٹر): 325 روپے

کالا چنا نمبر 1: 215 روپے

بیسن: 230 روپے فی کلو

مارکیٹ قیمتیں

بیسن: 280 تا 400 روپے

کالا چنا: تقریباً 300 روپے

کابلی چنا: تقریباً 400 روپے

ماش: 420 تا 500 روپے فی کلو

سموسے، پکوڑے اور دیگر اشیا

اعلیٰ معیار کا آلو سموسہ (60 گرام): 40 روپے

قیمہ سموسہ (35 گرام): 40 روپے

پکوڑا مکس: 640 روپے فی کلو

جلیبی: 580 روپے فی کلو

پھینی اور خاجہ: 845 روپے فی کلو

انتظامیہ کے دعوے اور احکامات

کمشنر آفس کے مطابق مختلف اجلاسوں میں تاجروں اور متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد قیمتیں مقرر کی گئیں۔ کمشنر سید حسن نقوی نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت دی ہے کہ رمضان کے دوران سرکاری نرخوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

سپر اسٹورز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رمضان کاؤنٹر قائم کریں تاکہ معیاری اشیا مناسب نرخوں پر دستیاب ہوں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فرائض میں غفلت برتنے والے افسران سے وضاحت طلب کی جائے گی۔

دوسری طرف شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال رمضان سے قبل مہنگائی بڑھ جاتی ہے اور سرکاری نرخ نامے مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ صرف فہرستیں جاری کرنے کے بجائے عملی کارروائی کی جائے تاکہ منافع خوروں کے خلاف سخت اقدامات ہوں اور عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ مارکیٹ قیمت سرکاری قیمت روپے فی کلو سرکاری نرخ

پڑھیں:

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ

اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔

اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔

حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔

اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ