تین سال میں سرکاری اداروں کے نقصانات میں 74ارب کی کمی ہوئی،محمداورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں سرکاری اداروں کے نقصانات میں تقریباً 74 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے۔ایک ٹیلی ویژن پیغام میں انہوں نے سرکاری اداروں کے نقصانات میں کمی کے رجحان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ2023 میں نقصانات کا حجم905 ارب روپے، 2024 میں 851 ارب روپے اور پچھلے سال 832 ارب روپے تھا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی ملکیتی اداروں سے گزشتہ سال چالیس ارب روپے کی آمد ہوئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے سرکاری اداروں کی گورننس بہتر بنانے کیلئے نجی شعبے کے بورڈ کے آزاد ممبران کی تقرری جیسے اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے پی ڈبلیو ڈی اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن جیسے محکموں کی بندش کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاسکو بھی بند ہونے کے مراحل میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سرکاری اداروں ارب روپے کہا کہ
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔