بلوچوں کی نسل کشی فتنہ الہندوستان کے ہاتھوں ہو رہی ہے، شہید نوید ہاشم کے اہلخانہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
کوئٹہ (نوائے وقت رپورٹ) فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچوں کی نسل کشی جاری ہے۔ بھارتی پراکسیز کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکاہے۔بلوچ عوام فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے بیانیہ کو مسترد کر کے بلوچ نسل کشی کیخلاف آواز اٹھانے لگے۔فتنہ الہندوستان کے ہاتھوں شہید ہونے والے بلیدہ کے نوید ہاشم کے اہلِ خانہ نے تربت میں اہم پریس کانفرنس کی ہے۔فتنہ الہندوستان کے سفاک دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوید ہاشم کی ماں نے دکھ بھری داستان سناتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے میرے بیٹے کو اغوا کر کے 26 دن تک لاپتہ رکھا۔فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے میرے بیٹے پر تشدد کیا اور اذیتیں دیکر شہید کر دیا۔انہوں نے کہا کہ شہید کرنے کے بعد میرے بیٹے کی نعش کو پیرکین میں پھینک دیا گیا۔کوئی بلوچ اپنے بھائیوں کے ساتھ ایسا کر ہی نہیں سکتا،ماوں کے دل مت توڑیں۔شہید نوید ہاشم کی بہن کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے معصوم بچوں کو یتیم کر دیا۔دہشتگردوں نے تین معصوم بچوں سے ان کے باپ کا سایہ چھین لیا۔یہ بات فتنہ الہندوستان کی طرف سے کی گئی ہے کہ ہم نے مارا ہے اور پھینک دیا ہے۔اگر اس طرح فتنہ الہندوستان بے گناہ لوگوں کو مار کر پھینک دیتی ہے تو یہ بلوچ قوم کی دوست نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں دہشتگردوں نے نوید ہاشم
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔