data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی خاموش پس پردہ کوششوں کے نتیجے میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھوں کے معائنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کیلئے رابطے ممکن ہوئے۔

ذرائع کے مطابق یہ عمل علیمہ خان کے بدلتے موقف کے باعث متعدد بار تعطل کا شکار بھی رہا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی نے اس وقت دونوں جانب رابطے کا خلا پُر کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا جب کوئی باضابطہ رابطہ موجود نہیں تھا۔ مفاہمت کے تحت حکومت نے کئی ڈاکٹروں پر مشتمل ایک آزاد میڈیکل بورڈ تشکیل دینے پر آمادگی ظاہر کی جبکہ پی ٹی آئی کو ایک آزاد معالج نامزد کرنے کی اجازت دی گئی، جس کے لیے ڈاکٹر ندیم قریشی کا نام پیش کیا گیا اور اسے قبول کر لیا گیا۔

حکومت نے پی ٹی آئی کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ عمل کی نگرانی کیلئے خاندان کے ایک نمائندے کو نامزد کرے۔ ابتدا میں عمران خان کے بھانجے قاسم زمان کو نامزد کیا گیا، تاہم بعد میں علیمہ خان نے یہ نام واپس لے کر ڈاکٹر نوشیروان برکی کو شامل کرنے کی تجویز دی، جس پر حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ بطور نمائندہ کسی خاندانی ڈاکٹر کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی تجویز بھی دی، تاہم حکومت نے واضح کیا کہ اسپتال منتقلی کا فیصلہ صرف میڈیکل بورڈ کی سفارش پر ہوگا کیونکہ سپریم کورٹ کے حکم میں پیشگی داخلے کی ہدایت شامل نہیں۔ یہ مؤقف پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر قیادت تک پہنچایا گیا۔

بعد ازاں آزاد میڈیکل بورڈ، جس میں پی ٹی آئی کے نامزد ڈاکٹر بھی شامل تھے، اڈیالہ جیل پہنچا اور عمران خان کا معائنہ کیا۔ پی ٹی آئی کو نمائندہ بھیجنے کی دعوت دی گئی تھی، تاہم معائنے کے وقت کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ معائنے کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین اور اپوزیشن رہنماؤں کو ڈاکٹروں کی جانب سے نتائج سے آگاہ کیا گیا۔

میڈیکل بورڈ نے عمران خان کی آنکھوں میں کسی سنگین عارضے کی نشاندہی نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق ایک آنکھ کی بینائی 6/6 جبکہ دوسری کی 6/9 ریکارڈ کی گئی اور ڈاکٹروں نے ہلکے نمبر کا چشمہ استعمال کرنے کی سفارش کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میڈیکل بورڈ پی ٹی ا ئی کرنے کی

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان