وفاقی حکومت کا آلو کی زائد پیداوار اور برآمدات میں استحکام یقینی بنانے پر زور
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں آلو کی زائد پیداوار اور برآمدات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں وفاق اور پنجاب کے اعلیٰ حکام، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل خان اور سیکریٹری تجارت جواد پال نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: آلو کے کاشتکاروں کے لیے خوشخبری: مریم نواز کا وزیراعظم شہباز شریف کو برآمدات بڑھانے کے لیے خط
وزیر تجارت نے ہدایت دی کہ کسانوں کو براہِ راست معاونت دی جائے اور مصنوعی قیمتوں میں مداخلت سے گریز کیا جائے۔ اجلاس میں وسطی ایشیا سمیت نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے ہدفی اور محدود مدت فریٹ سہولت پر غور کیا گیا اور برآمد کنندگان کے بڑھتے لاجسٹکس اخراجات کے لیے حکمتِ عملی تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
آلو کی زائد پیداوار / برآمدات
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت آلو کی زائد پیداوار اور برآمدات کے فروغ سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس
آلو کی اضافی پیداوار سے فارم گیٹ قیمتوں پر دباؤ، کسانوں کے مفادات کے تحفظ پر زور@KulAalam @AmirSaeedAbbasi @Aadiiroy2 #potato pic.
— Media Talk (@mediatalk922) February 17, 2026
مزید پڑھیں: پنجاب عالمی منڈی میں آلو ایکسپورٹ کرنے والا صوبہ بننے کے قریب، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا اعلان
بی ٹو بی روابط بڑھانے، برآمدی منڈیوں کے تنوع اور وفاق و پنجاب کے درمیان ڈیٹا پر مبنی مشترکہ حکمتِ عملی بنانے پر بھی زور دیا گیا، تاکہ کسانوں اور برآمد کنندگان کی عملی معاونت اور زرعی شعبے میں استحکام یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آلو آلو کی زائد پیداوار وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آلو آلو کی زائد پیداوار وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان آلو کی زائد پیداوار کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔