پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی احتجاج اور سڑکیں بند کرنے پر شدید برہمی کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے احتجاج اور سڑکیں بند کرنے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی، جس میں جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید نے شرکت کی۔ عدالت نے چیف سیکریٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا پولیس کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
مزید پڑھیں:پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کالعدم قرار دیدیا
سماعت کے دوران عدالت نے سڑکیں بند کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور لوگ جان سے جا رہے ہیں۔ وکیل درخواست گزار نے سڑکیں بند کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا، جس پر جسٹس اعجاز انور نے ڈیٹا اور مقدمات کی تفصیلات سے متعلق سوالات کیے۔
مزید پڑھیں:احتجاجی ریلیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال ممنوع، پشاور ہائیکورٹ نے کے پی حکومت کو روک دیا
عدالت نے سماعت وقفے تک ملتوی کرتے ہوئے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو پیش ہونے کا حکم دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پشاور ہائیکورٹ پی ٹی آئی احتجاج جسٹس اعجاز انور جسٹس فرح جمشید.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور ہائیکورٹ پی ٹی آئی احتجاج پشاور ہائیکورٹ سڑکیں بند کرنے
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔