خاتون کا والدہ کی میت گھر میں چھپاکر کئی برس تک پنشن وصول کرنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
جرمنی میں خاتون کی جانب سے اپنی والدہ کی میت گھر میں چھپاکر کئی برس تک پنشن لینے کا انکشاف ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس نے ایک معمر خاتون کی بوسیدہ لاش اُس وقت برآمد کی جب مقامی میئر کی جانب سے مسلسل رابطہ نہ ہونے پر معاملہ مشکوک سمجھا گیا۔
مقامی میئر گزشتہ آٹھ برسوں سے 1922 میں پیدا ہونے والی صوفی سے سالگرہ کے موقع پر ملنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم ہر بار اُن کی بیٹی کرسٹا کسی نہ کسی بہانے سے ملاقات نہیں ہونے دیتی تھی۔
رپورٹ کے مطابق میئر نے 30 دسمبر 2025 کو پراسیکیوٹر آفس سے رابطہ کیا کیونکہ بیٹی کا یہ دعویٰ مشکوک لگا کہ اُس کی والدہ دو سال قبل چیکیا میں انتقال کر چکی ہیں۔ پولیس نے 5 فروری کو گھر پر کارروائی کے دوران خاتون کی بوسیدہ لاش برآمد کرلی۔
پوسٹ مارٹم میں موت کی وجہ اور وقت کا تعین نہ ہو سکا اور قتل کے شواہد بھی نہیں ملے تاہم دھوکہ دہی کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں کیونکہ خاتون کی تقریباً 1500 یورو ماہانہ پنشن بدستور وصول کی جا رہی تھی، پولیس کے مطابق مشتبہ بیٹی اس وقت ایک طبی کلینک میں زیر علاج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خاتون کی
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔