غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں، 11 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
شمالی غزہ میں خیمہ بستی پر حملے میں6جبکہ جنوبی حصے میں ایک اور حملے میں 5 فلسطینی شہید ہوئے
حماس جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں مبینہ اہداف کو نشانہ بنایا، اسرائیل ڈیفنس فورسز
غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، تازہ حملوں میں مزید 11 فلسطینی شہید ہوگئے۔ فلسطینی ریڈ کراس کے مطابق اتوار کو شمالی غزہ میں خیمہ بستی پر کیے گئے ایک حملے میں کم از کم 6 جبکہ جنوبی حصے میں ایک اور حملے میں 5 فلسطینی شہید ہوئے۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز نے الزام عائد کیا ہے کہ اس نے حماس کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں مبینہ اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل اور حماس دونوں ایک دوسرے پر 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے بعد سے تقریباً روزانہ خلاف ورزیوں کا الزام عائد کر رہے ہیں۔غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک کم از کم 600 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق اس ماہ کے آغاز میں غزہ بھر میں اسرائیلی فضائی حملوں کی ایک لہر میں کم از کم 32 افراد مارے گئے تھے۔ تازہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کی تیاریاں جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: فلسطینی شہید حملے میں
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔