گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
وفاقی اور پنجاب حکومت کی پالیسیوں سے ٹرانسپورٹرز شدید دباؤ کا شکار ہیں،شہزاد اعوان
ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے اخراجات میں براہِ راست اضافہ ہوتا ہے، میڈیا سے گفتگو
صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ملک بھر میں مال برداری کے کرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ قابلِ مذمت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے اخراجات میں براہِ راست اضافہ ہوتا ہے، جس کے باعث کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے، وفاقی اور پنجاب حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومتیں ٹرانسپورٹرز کو دیوار سے لگانا چاہتی ہیں جبکہ مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے جا رہے۔ ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ اس سے قبل کی گئی ملک گیر ہڑتال کے دوران وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ اور وفاقی وزیر مواصلات نے جو معاہدے کیے تھے، ان پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوا،اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب اور وزیر ٹرانسپورٹ کی جانب سے کئے گئے وعدے بھی پورے نہیں کئے گئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹرانسپورٹرز سے کئے گئے وعدوں پر فوری عملدرآمد نہ کیا گیا تو ایک بار پھر ملک گیر پرامن ہڑتال کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر عائد ہوگی۔ صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے وفاقی، پنجاب اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہڑتال کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے تاکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کو درپیش مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: شہزاد اعوان
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔