موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کا عمل 20 فروری سے شروع ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی دارالحکومت میں گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگانے کی مہم کامیابی سے جاری ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
محکمہ ایکسائز کے مطابق موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کا باقاعدہ آغاز 20 فروری سے ہوگا۔ موٹر سائیکل مالکان 20 فروری کو صبح 10 بجے سے ایم ٹیگ حاصل کرسکیں گے۔
ایم ٹیگ کے حصول کے لیے موٹر سائیکل کے کاغذات اور قومی شناختی کارڈ ہمراہ لانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا اطلاق تمام بائکس، بائکیا، ہیوی بائکس اور ہر قسم کی موٹر سائیکلوں پر ہوگا۔
ڈائریکٹر جنرل ایکسائز کے مطابق شہر بھر میں 13 مقامات پر ایم ٹیگ لگانے کا عمل جاری ہے۔ اب تک مجموعی طور پر 6 لاکھ سے زائد گاڑیوں کو ایم ٹیگ جاری کیے جاچکے ہیں۔
محکمہ ایکسائز کے حکام کا کہنا ہے کہ بائکیا اور آن لائن ٹیکسی کی رجسٹریشن کا عمل الگ سے جاری ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جاسکے۔
ڈائریکٹر جنرل ایکسائز نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ایم ٹیگ مہم میں تعاون کریں کیونکہ ان تمام اقدامات کا مقصد شہر اور شہریوں کے سفر کو محفوظ بنانا ہے۔
https://dailymumtaz.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: موٹر سائیکلوں پر
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔