16ویں قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل، کیا بڑی پیشرفت اور قانون سازیں ہوئیں؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
16ویں قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل ہوگیا جس کے دوران نمایاں قانون سازیاں کی گئیں۔
ترجمان قومی اسمبلی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 16 ویں قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کے دوران نمایاں قانون سازی کی گئی۔ دوسرے سال کی تکمیل اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں ایوان نے قانون سازی اور پارلیمانی نگرانی کے شعبوں میں قابلِ ذکر پیشرفت ہوئی، دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 59 سرکاری بل پیش کیے گئے، 14 بل سینیٹ سے موصول ہوئے جس میں سے 46 بل منظور ہوئے۔
ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق دوسرے پارلیمانی سال میں 48 نجی بل پیش کیے گئے، 38 سینیٹ سے موصول ہوئے، دوسرے پارلیمانی سال میں قومی اسمبلی نے 13 نجی بلز منظور کیے، دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 40 سرکاری اور 6 نجی ایکٹ بنے۔
ترجمان کے مطابق دوسرے پارلیمانی سال کے دوران قومی اسمبلی کے ایوان نے 27 قراردادیں منظور کیں، قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کے دوران قومی اسمبلی کے 11 اور تین مشترکہ اجلاس منعقد ہوئے۔
ترجمان قومی اسمبلی نے اعلامیے میں بتایا کہ اجلاسوں کے دوران 130 ورکنگ ڈیز مکمل کیے گئے، جن کا مجموعی دورانیہ 237 گھنٹے 36 منٹ رہا جبکہ اس دوران 7,625 سوالات پوچھے گئے جن میں سے 1 ہزار 710 سوالات کے جوابات ایوان میں وزرا نے دیے۔
اعلامیے کے مطابق دوسرے پارلیمانی سال کے دوران ممبران کی جانب سے 329 توجہ دلاؤ نوٹس موصول ہوئے، جن میں سے 49 ایوان میں زیرِ بحث آئے جبکہ استحقاق کی 33 تحریکیں پیش ہوئیں، جن میں سے 6 متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوائی گئیں، 18 زیرِ غور ہیں، 6 نامنظور جبکہ 2 واپس لے لی گئیں۔
ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق رول 259 کے تحت 263 تحاریک موصول ہوئیں، جن میں سے 4 کو آرڈر آف دی ڈے میں شامل کیا گیا اور 3 پر بحث کی گئی جبکہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ اجلاس کے دوران سالانہ بجٹ پر ایوان میں تفصیلی بحث کی گئی۔
قومی اسمبلی ترجمان کے مطابق پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ فنانس بل کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس کے اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے فنانس بل پر طویل غور خوص کے بعد اپنی سفارشات ایوان میں پیش کیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ دوسرے پارلیمانی سال کے دوران نمایاں قانون سازی میں 27ویں آئینی ترمیم سمیت کئی اہم بلز ایکٹ بنے، دوسرے پارلیمانی سال کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کی کارروائی غیر جانبداری سے چلائی جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے قومی اہمیت کے امور پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین رابطہ کاری کیلئے اہم کردار ادا کیا جبکہ وقفہ سوالات کو مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ وزارتوں کی جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے ممبران کے سوالات کے جوابات نا موصول ہونے پر متعلقہ سیکرٹریز کو طلب کیا، اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن اراکین سمیت تمام اراکینِ قومی اسمبلی کیلئے اپنے چیمبر کے دروازے کھلے رکھے۔
اعلامیے کے مطابق 16 ویں قومی اسمبلی کے دوران پارلیمان نے بھارتی جارحیت کو دنیا بھر میں بے نقاب کیا اور قومی سطح پر یکجہتی قائم کرنے کیلئے اہم کردار ادا کیا جبکہ پارلیمان نے علاقائی اور عالمی سطح پر بھارت کے مکروہ چہرہ کو بے نقاب کرنے کیلئے پارلیمانی سفارتکاری کو فروغ دیا۔
ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ پارلیمان نے معرکہ حق کے دوران مسلح افواج کے ساتھ قومی یکجہتی کا اظہار کیا اور مسلح افواج کے پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مہارتوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا، 16 ویں قومی اسمبلی کے دوران معرکہ حق اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر اسپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں 16ویں قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مؤثر قانون سازی، فعال نگرانی، بڑھتی ہوئی شفافیت، متحرک پارلیمانی سفارتکاری اور جمہوری اقدار سے تجدیدِ عہد کا مظہر ثابت ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دوسرے پارلیمانی سال کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے ترجمان قومی اسمبلی قومی اسمبلی کے قومی اسمبلی کا اعلامیے میں ایوان میں کے مطابق کی گئی
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔