ہزارہ موٹر وے اور کوہالہ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دی گئی، ڈی آئی جی ناصر محمود ستی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
انسپکٹر جنرل آف(آئی جی) پولیس خیبر پختونخواہ ذوالفقار حمید اور ریجنل پولیس آفیسر ناصر محمود ستی کی ہدایت پر ایبٹ آباد پولیس اور ایبٹ آباد ٹریفک پولیس نے عملدرآمد کرتے ہوئے ہزارہ موٹر وے اور کوہالہ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے،عوام اب موٹر وے اور کوہالہ روڈ پر سفر کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا میں دھرنا، کہاں کہاں سڑکیں بند ہیں؟
اس حوالے سے ڈی آئی جی ہزارہ ناصر محمود ستی نے کہا کہ ہزارہ پولیس عوام کو ہر ممکنہ محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج کے لیے تیار، مگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ماضی کے تجربات سے محتاط رہنے کے حامی
ڈی آئی جی ہزارہ نے اس حوالے سے ایس ایس پی ٹریفک محمد اشتیاق اور ایس پی حویلیاں جمیل الرحمان کو خصوصی ہدایت کی ہے کہ وہ موقع پر موجود رہیں اور موٹر وے، کوہالہ روڈ اور شاہراہ ریشم پر عوام کے لیے ٹریفک کی روانی مستقل بحال رکھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پی ٹی آئی احتجاج ٹریفک کوہالہ روڈ ناصر محمود ستی ہزارہ موٹروے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی احتجاج ٹریفک ناصر محمود ستی ہزارہ موٹروے ناصر محمود ستی موٹر وے کے لیے
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔