وادی کشمیر کے شہر سرینگر میں بھارتی ایجنسی "این آئی اے" کی چھاپہ ماری
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
دہلی میں ہوئے کار بم دھماکے کے بعد این آئی اے نے وادی کشمیر میں کئی مقامات پر چھاپے مارے جن میں رہائشی مکانات، باغات حتیٰ کہ جنگلی علاقے میں بھی شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے 2024ء میں درج ایک کیس کے سلسلے میں سرینگر کے ایک رہائشی کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی کارروائی بھی انجام دی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ "این آئی اے" کی ایک ٹیم نے نیم فوجی دستے اور جموں کشمیر پولیس کے ہمراہ سرینگر کے مہجور نگر کے گلشن آباد علاقے میں چھاپے مارے اور تلاشی کارروائی انجام دی۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ چھاپے ایف آئی آر نمبر 18/2024 سے منسلک تھے۔ تحقیقاتی ایجنسی نے ابھی تک ان چھاپوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
این آئی اے یا کسی بھی سیکورٹی ایجنسی سے اس حوالہ سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ یاد رہے کہ ایجنسی کی جانب سے سال 2019ء میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے کارروائیوں میں تیزی لائی گئی۔ جموں و کشمیر خاص کر وادی میں علیحدگی پسند حلقوں یا عسکری تنظیموں کے ساتھ راست یا بالواسطہ تعلقات رکھنے والے افراد کے گھروں اور دفاتر پر کئی مرتبہ چھاپے مارے گئے۔
علاوہ ازیں ماضی میں عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کرنے والے افراد یا گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان یا پاکستان زیر قبضہ کشمیر میں مستقل رہائش اختیار کرنے افراد کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے۔ بعض اوقات چھاپوں کے دوران نہ صرف گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں بلکہ ایجنسی کے مطابق قابل اعتراض مواد بھی ضبط کئے گئے۔ وہیں دہلی میں ہوئے کار بم دھماکے کے بعد این آئی اے نے وادی کشمیر میں کئی مقامات پر چھاپے مارے جن میں رہائشی مکانات، باغات حتیٰ کہ جنگلی علاقے میں بھی شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چھاپے مارے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔