عمران خان نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ وہ اپنی آنکھ کی حالت پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں ، مریم وٹو
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو کا کہنا ہے کہ آج جیل میں ملاقات کے دوران عمران خان نے اپنی اہلیہ بشریٰ عمران سے کہا کہ وہ اپنی آنکھ کی حالت پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ بہتری کے آثار ظاہر نہیں ہو رہے۔
ایکس پر جاری بیان میں مریم وٹو نے بتایا کہ عمران خان نے بشریٰ بی بی کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے بھیجے گئے ڈاکٹروں نے خون کے ٹیسٹ بھی کیے، مگر اُن کی رپورٹس انہیں فراہم نہیں کی گئیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر رپورٹس دکھا بھی دی جائیں تو وہ اُس وقت تک مطمئن نہیں ہوں گے جب تک اُن کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم کو اُن کا معائنہ کرنے اور خود ٹیسٹ کروانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
لاہور میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی چھت سے طالبہ نے چھلانگ لگادی، حالت تشویشناک
مریم وٹو کے مطابق بشریٰ عمران نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کی قانونی ٹیم فوری طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرے اور ایک ہنگامی درخواست دائر کرے تاکہ اُن کے ذاتی ڈاکٹروں کو جلد از جلد معائنہ کرنے کی اجازت دی جا سکے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔