پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر خیبرپختونخوا پولیس کا ایکشن، تمام شاہراہوں کو کھول دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
پشاور ہائیکورٹ کے حکم کی روشنی میں پولیس نے صوبے بھر کی بند شاہراہوں پر دھرنا دے کر بیٹھے مظاہرین کو منتشر کر کے سڑکوں کو کھول دیا۔
پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے عوامی شاہراہوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے فوری طور پر بحال کرنے کے احکامات کے بعد خیبرپختونخوا پولیس اور انتظامیہ مکمل طور پر متحرک ہو گئی ہے اور صوبے بھر میں بند سڑکیں کھولنے کا عمل بڑے پیمانے پر شروع کر کے متعدد اہم شاہراہوں کو بحال کر دیا۔
آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق عدالت عالیہ نے واضح کیا تھا کہ عوام کے حقِ نقل و حمل (Right to Movement) میں رکاوٹ ڈالنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
جس کے تناظر میں آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے تمام ریجنل اور ضلعی پولیس افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی احکامات پر من و عن عمل کیا جائے اور شہریوں کی آمد و رفت میں آسانی کے لیے فوری طور پر تمام بند راستے کھلوائے جائیں۔
مزید پڑھیںپشاور ہائیکورٹ کا موٹروے اور جی ٹی روڈ بندش پر اظہار برہمی، سڑکیں فوری کھولنے کا حکم
کارروائی کے دوران پنجاب اور خیبرپختونخوا کو ملانے والے اہم مقام اٹک پل جی ٹی روڈ پر لگائی گئی رکاوٹیں ہٹا کر ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کو میانوالی اور چشمہ سے ملانے والی سڑکیں بھی کھلوا لی گئیں، ڈیرہ اسماعیل خان تا اسلام آباد موٹر وے ایم-14 سی پیک یارک ٹول پلازہ کو بھی کلیئر کر کے عام ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے جبکہ ہزارہ موٹر وے پر حویلیاں اور مسلم آباد انٹر چینج بھی پولیس نے کھلوا دیئے ہیں۔
آئی جی کے پی کے مطابق اس آپریشن کا بنیادی مقصد شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کرنا، کاروباری و روزمرہ معمولات کو متاثر ہونے سے بچانا اور عوام کو یقین دہانی کرانا ہے کہ شاہراہوں کی بندش کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور آئین و قانون کے مطابق عوام کے حقِ نقل و حرکت کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پشاور ہائیکورٹ
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔