پی ٹی آئی قیادت عمران خان کی آنکھوں کی تکلیف سے پہلے ہی آگاہ تھی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: تحریک انصاف کی مرکزی قیادت بانی چیئرمین عمران خان کی آنکھوں میں تکلیف سے 9 فروری سے باخبر تھی، اس اطلاع کو ابتدائی طور پر سنجیدگی سے نہیں لیا گیا،یہ پیغام پارٹی رہنما بیرسٹر محمد علی سیف کے ذریعے قیادت تک پہنچایا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے آنکھوں کی تکلیف سے متعلق بیرسٹر سیف کو آگاہ کیا، جس کے بعد انہوں نے یہ معلومات پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں تک منتقل کیں، پارٹی کے اندرونی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ قیادت نے اس اطلاع کو فوری اہمیت نہیں دی، بیرسٹر سیف نے بشریٰ بی بی کے دیگر پیغامات بھی قیادت تک پہنچائے تھے مگر بعض رہنما اس معاملے پر جارحانہ سیاسی مؤقف اپنانے کے حق میں نہیں تھے۔
اس حوالے سے جب پارٹی رہنماؤں بیرسٹر گوہر علی خان اور بیرسٹر محمد علی سیف سے مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی تو دونوں نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
سرکاری طور پر جاری ہونے والی میڈیکل رپورٹ کے مطابق عمران خان کا معائنہ 15 فروری 2026 کو ماہر امراضِ چشم پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے کیا، جس میں الشفاء ٹرسٹ آئی اسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز اسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق دائیں آنکھ کی بینائی عینک کے بغیر 6/24 جبکہ بائیں آنکھ کی 6/9 ریکارڈ کی گئی۔ عینک کے استعمال سے دائیں آنکھ کی بینائی بہتر ہو کر 6/9 پارشل اور بائیں آنکھ کی 6/6 ہوگئی۔
میڈیکل رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ دائیں آنکھ کے پردۂ بصارت پر سوزش کے آثار موجود ہیں تاہم سوجن میں واضح کمی آئی ہے اور آنکھ کی موٹائی 550 سے کم ہو کر 350 ہونا بہتری کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس اور خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر احتجاجی دھرنے جاری ہیں، احتجاج کا مقصد پارٹی مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا اور قیادت کے تحفظات کو سامنے لانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آنکھ کی
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔