Islam Times:
2026-07-24@03:57:46 GMT

اعلان گمشدگی پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

اعلان گمشدگی پاکستان

اسلام ٹائمز: بزرگوں کے بیانات، وعدوں، آئینی دستاویزات میں سوچا گیا پاکستان، جو سب کو مطالعہ پاکستان میں یاد کروایا جاتا ہے، گذشتہ چار دہائیوں سے مجھے کہیں نظر نہیں آرہا۔ جن صاحب کو بھی یہ پاکستان کہیں دکھائی دے، وہ اسے بتائیں کہ لوگ اسے "اڈیک" رہے ہیں۔ اسے کہیں کہ لوٹ آئے، اس سے قبل کہ لوگ مطالعہ پاکستان کی ان کہانیوں پر یقین کرنا چھوڑ دیں۔ تحریر: سید اسد عباس

سر سید احمد خان سے قبل دو قومی نظریہ ایک مذہبی اور تہذیبی تصور تھا، جسے سر سید احمد خان نے ایک سیاسی نعرہ کی شکل دی۔ انھوں نے مسلمانوں کو کانگرس سے دور رکھنے اور علمی پیشرفت کی جانب متوجہ کیا۔ اردو ہندی تنازع کے دوران جب ہندو رہنماؤں نے اردو کی مخالفت کی تو سر سید نے بنارس کے کمشنر مسٹر شیکسپئیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا: "مجھے یقین ہو چلا ہے کہ یہ دونوں قومیں (ہندو اور مسلمان) کبھی کسی کام میں دل سے شریک نہ ہوسکیں گی۔ ابھی تو بہت کم مخالفت ہے، لیکن آگے چل کر ان لوگوں کی وجہ سے جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں، یہ مخالفت اور بڑھے گی۔" 1937ء سے 1940ء تک قائد اعظم نے اپنے مختلف بیانات میں کہا: "ہم ایک ایسی قوم ہیں، جس کی اپنی منفرد ثقافت اور تہذیب، زبان اور ادب، فن اور فنِ تعمیر ہے۔۔۔۔ اسی لیے ہم (اپنا فیصلہ خود کرنے کے لیے) حقِ خودارادیت کے مستحق ہیں۔"

1940ء منٹو پارک میں خطبہ لاہور دیتے ہوئے قائد اعظم نے کہا: "ہندو اور مسلمان دو مختلف مذہبی فلسفوں، سماجی رسم و رواج اور ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسی دو قوموں کو ایک ہی ریاست کے جوئے میں ایک ساتھ جوتنا۔۔۔ لازمی طور پر بڑھتی ہوئی بے اطمینانی اور بالآخر تباہی کا باعث بنے گا۔" 1943ء میں مسلم لیگ کے دلی اجلاس میں قائد اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا: "پاکستان کوئی مذہبی پیشوائیت (تھوکریٹک) ریاست نہیں ہے۔۔۔۔ یہ ایک جمہوری ریاست ہوگی، جہاں مسلمان اپنے نظریات کے مطابق زندگی گزارنے میں آزاد ہوں گے اور دیگر (مذاہب کے ماننے والوں) کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔" 1947ء میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا: "آپ آزاد ہیں! آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں یا اس ریاستِ پاکستان میں کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو۔۔۔ اس کا ریاست کے معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔"

1947ء میں ریڈیو پاکستان پر خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا: "پاکستان کا قیام آج ایک حقیقت ہے۔ اب ہمیں اپنی تقدیر سنوارنے کے لیے اپنے طریقے سے کام کرنا ہے اور دنیا کے سامنے ایک مثالی اسلامی ریاست پیش کرنی ہے۔" 1949ء میں لیاقت علی خان جب پاکستان کے دستور پر کام کر رہے تھے، اس وقت انھوں نے قرارداد مقاصد پاکستان کو ان الفاظ میں بیان کیا یہ عبارت شائد آئین پاکستان کا آج بھی حصہ ہے: "پوری کائنات پر حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔۔۔۔ اور وہ اختیار جو اس نے ریاستِ پاکستان کو تفویض کیا ہے۔۔۔۔ اسے اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال کیا جائے گا۔۔۔۔ جس میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور سماجی انصاف کے اصولوں پر، جیسا کہ اسلام نے ان کی وضاحت کی ہے، مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔" اسی قرارداد مقاصد میں لکھا گیا: "اقلیتوں کے لیے مناسب بندوبست کیا جائے گا کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنے مذاہب کا اظہار کرسکیں، ان پر عمل کرسکیں اور اپنی ثقافتوں کو پروان چڑھا سکیں۔"

قرارداد مقاصد میں لکھا ہے: "بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں، جہاں تک قانون و اخلاق اجازت دیں، مساوات، حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، سماجی، اقتصادی و سیاسی انصاف، اظہارِ خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور جماعت سازی کی آزادی شامل ہوگی۔" 1953ء میں پاکستان کا دستور بنانے کے لیے علماء سے مشاورت ہوئی تو انھوں نے چند اہم تجاویز پیش کیں، جن کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔ ملک کا قانون قرآن و سنت پر مبنی ہوگا اور اس کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔ ریاست کا فرض ہوگا کہ وہ معروف (نیکی) کو پھیلائے اور منکر (برائی) کو روکے۔ تمام شہریوں کو (بغیر کسی امتیاز کے) وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے، جو اسلام نے عطا کیے ہیں۔ غیر مسلموں کو اپنے مذہب، عبادت اور ثقافت کی مکمل آزادی ہوگی۔ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہوں گے، کسی کو رنگ، نسل یا ذات کی بنیاد پر برتری حاصل نہیں ہوگی۔ ریاست ایسا معاشی نظام قائم کرے گی، جس میں دولت چند ہاتھوں میں گردش نہ کرے اور زکوٰۃ و عشر کا نظام رائج ہوگا۔

عدلیہ انتظامیہ سے مکمل طور پر آزاد ہوگی۔ ریاست ہر شہری کے لیے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔ کسی شخص کو قانون کی گرفت کے بغیر قید یا سزا نہیں دی جائے گی۔ شہریوں کو جائز حدود کے اندر رہتے ہوئے تنقید اور اختلافِ رائے کا حق حاصل ہوگا۔ ہر شہری کو عدالت تک رسائی اور دفاع کا مکمل حق حاصل ہوگا۔ پاکستان کا 1973ء کا آئین شہریوں کو وسیع پیمانے پر بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ یہ حقوق آئین کے حصہ دوم کے باب اول میں آرٹیکل 8 سے 28 تک درج ہیں۔ ان حقوق کا مقصد شہریوں کی آزادی، وقار اور جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ ذیل میں اہم حقوق کا خلاصہ درج ہے:

انفرادی آزادی اور تحفظ:
آرٹیکل 9 (جان کا تحفظ) کسی بھی شخص کو قانون کے بغیر زندگی اور آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ آرٹیکل 10 (گرفتاری اور نظربندی): کسی شخص کو گرفتاری کی وجوہات بتائے بغیر قید نہیں کیا جا سکتا اور اسے 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہے۔ آرٹیکل 14 (وقارِ انسانی): انسانی وقار اور گھر کی پردہ داری ناقابلِ تسخیر ہوگی۔ کسی شخص کو اعترافِ جرم کے لیے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

آزادیِ اظہار اور نقل و حرکت
آرٹیکل 15 (نقل و حرکت): ہر شہری کو پورے پاکستان میں آزادانہ گھومنے، پھرنے اور سکونت اختیار کرنے کا حق ہے۔ آرٹیکل 16 (اجتماع): شہریوں کو پرامن طور پر اکٹھے ہونے اور اجتماع کرنے کی آزادی ہے۔ آرٹیکل 17 (انجمن سازی): سیاسی جماعتیں بنانے اور یونین بنانے کا حق۔ آرٹیکل 19 (اظہارِ رائے): ہر شہری کو تقریر، تحریر اور اظہارِ خیال کی آزادی ہے (بشرطیکہ وہ ملکی سالمیت اور اسلام کے خلاف نہ ہو)۔

معاشی اور پیشہ ورانہ حقوق
آرٹیکل 18 (تجارت و پیشہ): ہر شہری کو اپنی پسند کا قانونی پیشہ یا کاروبار اختیار کرنے کا حق ہے۔ آرٹیکل 23 و 24 (جائیداد): ہر شہری کو جائیداد خریدنے، رکھنے اور فروخت کرنے کا حق ہے۔ کسی کی جائیداد قانون کے بغیر ضبط نہیں کی جائے گی۔

مذہبی اور ثقافتی آزادی
آرٹیکل 20 (مذہبی آزادی): ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ آرٹیکل 21 و 22: کسی شخص کو ایسے ٹیکس کی ادائیگی پر مجبور نہیں کیا جائے گا، جو کسی دوسرے مذہب کے لیے ہو اور تعلیمی اداروں میں مذہبی تعلیم کے حوالے سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ آرٹیکل 28 (زبان و ثقافت): شہریوں کو اپنی زبان، رسم الخط اور ثقافت کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔

مساوات اور تعلیم
آرٹیکل 25 (مساوات): تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور صنف (Gender) کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ آرٹیکل 25-A ریاست 5 سے 16 سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے۔ بزرگوں کے بیانات، وعدوں، آئینی دستاویزات میں سوچا گیا پاکستان، جو سب کو مطالعہ پاکستان میں یاد کروایا جاتا ہے، گذشتہ چار دہائیوں سے مجھے کہیں نظر نہیں آرہا۔ جن صاحب کو بھی یہ پاکستان کہیں دکھائی دے، وہ اسے بتائیں کہ لوگ اسے "اڈیک" رہے ہیں۔ اسے کہیں کہ لوٹ آئے، اس سے قبل کہ لوگ مطالعہ پاکستان کی ان کہانیوں پر یقین کرنا چھوڑ دیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مطالعہ پاکستان پاکستان میں کیا جائے گا پاکستان کا کسی شخص کو ہر شہری کو کرتے ہوئے شہریوں کو نہیں کیا آزاد ہیں قانون کی کی آزادی کرنے کی نہیں کی کہ لوگ اور اس کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر