اسلام ٹائمز: بزرگوں کے بیانات، وعدوں، آئینی دستاویزات میں سوچا گیا پاکستان، جو سب کو مطالعہ پاکستان میں یاد کروایا جاتا ہے، گذشتہ چار دہائیوں سے مجھے کہیں نظر نہیں آرہا۔ جن صاحب کو بھی یہ پاکستان کہیں دکھائی دے، وہ اسے بتائیں کہ لوگ اسے "اڈیک" رہے ہیں۔ اسے کہیں کہ لوٹ آئے، اس سے قبل کہ لوگ مطالعہ پاکستان کی ان کہانیوں پر یقین کرنا چھوڑ دیں۔ تحریر: سید اسد عباس
سر سید احمد خان سے قبل دو قومی نظریہ ایک مذہبی اور تہذیبی تصور تھا، جسے سر سید احمد خان نے ایک سیاسی نعرہ کی شکل دی۔ انھوں نے مسلمانوں کو کانگرس سے دور رکھنے اور علمی پیشرفت کی جانب متوجہ کیا۔ اردو ہندی تنازع کے دوران جب ہندو رہنماؤں نے اردو کی مخالفت کی تو سر سید نے بنارس کے کمشنر مسٹر شیکسپئیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا: "مجھے یقین ہو چلا ہے کہ یہ دونوں قومیں (ہندو اور مسلمان) کبھی کسی کام میں دل سے شریک نہ ہوسکیں گی۔ ابھی تو بہت کم مخالفت ہے، لیکن آگے چل کر ان لوگوں کی وجہ سے جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں، یہ مخالفت اور بڑھے گی۔" 1937ء سے 1940ء تک قائد اعظم نے اپنے مختلف بیانات میں کہا: "ہم ایک ایسی قوم ہیں، جس کی اپنی منفرد ثقافت اور تہذیب، زبان اور ادب، فن اور فنِ تعمیر ہے۔۔۔۔ اسی لیے ہم (اپنا فیصلہ خود کرنے کے لیے) حقِ خودارادیت کے مستحق ہیں۔"
1940ء منٹو پارک میں خطبہ لاہور دیتے ہوئے قائد اعظم نے کہا: "ہندو اور مسلمان دو مختلف مذہبی فلسفوں، سماجی رسم و رواج اور ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسی دو قوموں کو ایک ہی ریاست کے جوئے میں ایک ساتھ جوتنا۔۔۔ لازمی طور پر بڑھتی ہوئی بے اطمینانی اور بالآخر تباہی کا باعث بنے گا۔" 1943ء میں مسلم لیگ کے دلی اجلاس میں قائد اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا: "پاکستان کوئی مذہبی پیشوائیت (تھوکریٹک) ریاست نہیں ہے۔۔۔۔ یہ ایک جمہوری ریاست ہوگی، جہاں مسلمان اپنے نظریات کے مطابق زندگی گزارنے میں آزاد ہوں گے اور دیگر (مذاہب کے ماننے والوں) کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔" 1947ء میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا: "آپ آزاد ہیں! آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں یا اس ریاستِ پاکستان میں کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو۔۔۔ اس کا ریاست کے معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔"
1947ء میں ریڈیو پاکستان پر خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا: "پاکستان کا قیام آج ایک حقیقت ہے۔ اب ہمیں اپنی تقدیر سنوارنے کے لیے اپنے طریقے سے کام کرنا ہے اور دنیا کے سامنے ایک مثالی اسلامی ریاست پیش کرنی ہے۔" 1949ء میں لیاقت علی خان جب پاکستان کے دستور پر کام کر رہے تھے، اس وقت انھوں نے قرارداد مقاصد پاکستان کو ان الفاظ میں بیان کیا یہ عبارت شائد آئین پاکستان کا آج بھی حصہ ہے: "پوری کائنات پر حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔۔۔۔ اور وہ اختیار جو اس نے ریاستِ پاکستان کو تفویض کیا ہے۔۔۔۔ اسے اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال کیا جائے گا۔۔۔۔ جس میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور سماجی انصاف کے اصولوں پر، جیسا کہ اسلام نے ان کی وضاحت کی ہے، مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔" اسی قرارداد مقاصد میں لکھا گیا: "اقلیتوں کے لیے مناسب بندوبست کیا جائے گا کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنے مذاہب کا اظہار کرسکیں، ان پر عمل کرسکیں اور اپنی ثقافتوں کو پروان چڑھا سکیں۔"
قرارداد مقاصد میں لکھا ہے: "بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں، جہاں تک قانون و اخلاق اجازت دیں، مساوات، حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، سماجی، اقتصادی و سیاسی انصاف، اظہارِ خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور جماعت سازی کی آزادی شامل ہوگی۔" 1953ء میں پاکستان کا دستور بنانے کے لیے علماء سے مشاورت ہوئی تو انھوں نے چند اہم تجاویز پیش کیں، جن کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔ ملک کا قانون قرآن و سنت پر مبنی ہوگا اور اس کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔ ریاست کا فرض ہوگا کہ وہ معروف (نیکی) کو پھیلائے اور منکر (برائی) کو روکے۔ تمام شہریوں کو (بغیر کسی امتیاز کے) وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے، جو اسلام نے عطا کیے ہیں۔ غیر مسلموں کو اپنے مذہب، عبادت اور ثقافت کی مکمل آزادی ہوگی۔ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہوں گے، کسی کو رنگ، نسل یا ذات کی بنیاد پر برتری حاصل نہیں ہوگی۔ ریاست ایسا معاشی نظام قائم کرے گی، جس میں دولت چند ہاتھوں میں گردش نہ کرے اور زکوٰۃ و عشر کا نظام رائج ہوگا۔
عدلیہ انتظامیہ سے مکمل طور پر آزاد ہوگی۔ ریاست ہر شہری کے لیے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔ کسی شخص کو قانون کی گرفت کے بغیر قید یا سزا نہیں دی جائے گی۔ شہریوں کو جائز حدود کے اندر رہتے ہوئے تنقید اور اختلافِ رائے کا حق حاصل ہوگا۔ ہر شہری کو عدالت تک رسائی اور دفاع کا مکمل حق حاصل ہوگا۔ پاکستان کا 1973ء کا آئین شہریوں کو وسیع پیمانے پر بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ یہ حقوق آئین کے حصہ دوم کے باب اول میں آرٹیکل 8 سے 28 تک درج ہیں۔ ان حقوق کا مقصد شہریوں کی آزادی، وقار اور جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ ذیل میں اہم حقوق کا خلاصہ درج ہے:
انفرادی آزادی اور تحفظ:
آرٹیکل 9 (جان کا تحفظ) کسی بھی شخص کو قانون کے بغیر زندگی اور آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ آرٹیکل 10 (گرفتاری اور نظربندی): کسی شخص کو گرفتاری کی وجوہات بتائے بغیر قید نہیں کیا جا سکتا اور اسے 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہے۔ آرٹیکل 14 (وقارِ انسانی): انسانی وقار اور گھر کی پردہ داری ناقابلِ تسخیر ہوگی۔ کسی شخص کو اعترافِ جرم کے لیے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
آزادیِ اظہار اور نقل و حرکت
آرٹیکل 15 (نقل و حرکت): ہر شہری کو پورے پاکستان میں آزادانہ گھومنے، پھرنے اور سکونت اختیار کرنے کا حق ہے۔ آرٹیکل 16 (اجتماع): شہریوں کو پرامن طور پر اکٹھے ہونے اور اجتماع کرنے کی آزادی ہے۔ آرٹیکل 17 (انجمن سازی): سیاسی جماعتیں بنانے اور یونین بنانے کا حق۔ آرٹیکل 19 (اظہارِ رائے): ہر شہری کو تقریر، تحریر اور اظہارِ خیال کی آزادی ہے (بشرطیکہ وہ ملکی سالمیت اور اسلام کے خلاف نہ ہو)۔
معاشی اور پیشہ ورانہ حقوق
آرٹیکل 18 (تجارت و پیشہ): ہر شہری کو اپنی پسند کا قانونی پیشہ یا کاروبار اختیار کرنے کا حق ہے۔ آرٹیکل 23 و 24 (جائیداد): ہر شہری کو جائیداد خریدنے، رکھنے اور فروخت کرنے کا حق ہے۔ کسی کی جائیداد قانون کے بغیر ضبط نہیں کی جائے گی۔
مذہبی اور ثقافتی آزادی
آرٹیکل 20 (مذہبی آزادی): ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ آرٹیکل 21 و 22: کسی شخص کو ایسے ٹیکس کی ادائیگی پر مجبور نہیں کیا جائے گا، جو کسی دوسرے مذہب کے لیے ہو اور تعلیمی اداروں میں مذہبی تعلیم کے حوالے سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ آرٹیکل 28 (زبان و ثقافت): شہریوں کو اپنی زبان، رسم الخط اور ثقافت کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔
مساوات اور تعلیم
آرٹیکل 25 (مساوات): تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور صنف (Gender) کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ آرٹیکل 25-A ریاست 5 سے 16 سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے۔ بزرگوں کے بیانات، وعدوں، آئینی دستاویزات میں سوچا گیا پاکستان، جو سب کو مطالعہ پاکستان میں یاد کروایا جاتا ہے، گذشتہ چار دہائیوں سے مجھے کہیں نظر نہیں آرہا۔ جن صاحب کو بھی یہ پاکستان کہیں دکھائی دے، وہ اسے بتائیں کہ لوگ اسے "اڈیک" رہے ہیں۔ اسے کہیں کہ لوٹ آئے، اس سے قبل کہ لوگ مطالعہ پاکستان کی ان کہانیوں پر یقین کرنا چھوڑ دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مطالعہ پاکستان پاکستان میں کیا جائے گا پاکستان کا کسی شخص کو ہر شہری کو کرتے ہوئے شہریوں کو نہیں کیا آزاد ہیں قانون کی کی آزادی کرنے کی نہیں کی کہ لوگ اور اس کے لیے
پڑھیں:
نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان
گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔
جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ
یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔
کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔
مزید :