سانحہ ہزارہ ٹاون، کئی برس گزرنے کے باوجود زخم تازہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ایک ہی لمحے میں کتنے خواب بکھر گئے، کتنے گھر اُجڑ گئے، کتنی ماؤں کی گودیں خالی ہو گئیں۔ وہ بچے جو چند لمحے پہلے مسکرا رہے تھے، ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ کئی ایسے گھر تھے جہاں شام کو دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے والی آنکھیں ہمیشہ کے لیے منتظر رہ گئیں۔ شرپسند دشمنان اہل بیتؑ نے پانی کے ٹینکر میں ہلاکت خیز بارودی مواد بھر کر ہزارہ ٹاون میں واقع مقامی بازار سے متصل کرانی روڈ پر دھماکہ کر دیا۔ رپورٹ: سید عدیل عباس
صوبہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے مملکت پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا، بلوچستان پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے کہ جس کی سرزمین میں معدنیات کی کمی نہیں، معدنیات کے عظیم ذخائر سے مالا مال یہ صوبہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا ہے۔ خصوصاً بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں باقاعدہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شیعہ نسل کشی کا سلسلہ شروع کیا گیا، یہ سلسلہ کئی شیعہ مسلمانوں کے گھر ویران کر کے قبرستان آباد کر چکا ہے۔ شہر کوئٹہ میں واقع بہشت زینب قبرستان اس شہر میں شیعہ نسل کشی کے پیچھے منظم منصوبہ بندی کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ جہاں طبعی موت مرنے والے بزرگوں کی تعداد کم اور دہشت گردی کا شکار ہونے والے نوجوان شہیدوں کی تعداد زیادہ ہے۔ لگ بھگ ایک ہزار صرف ان کی قبریں ہیں جو محبت علی علیہ السلام کے جرم میں بے دردی سے قتل کیے گئے۔ ان کی مائیں اور بہنیں سر شام ان کی قبروں پر آ جاتی ہیں اور وقت گزارتی ہیں۔
سانحہ ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ بھی اس نسل کشی کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، آج سے ٹھیک تیراہ سال قبل یعنی 16 فروری 2013ء کے ڈھلتے سورج نے ایک مرتبہ پھر خون کی حولی دیکھی۔ یہ وہ روز تھا کہ جو دن صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک ایسا زخم ہے جو آج بھی ہزاروں دلوں میں تازہ ہے۔ کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن میں اس شام جب زندگی معمول کے مطابق چل رہی تھی، بازار میں بچے ہنستے کھیلتے پھر رہے تھے، مائیں خریداری میں مصروف تھیں اور گھروں میں کھانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں، تب ایک دھماکے نے لمحوں میں سب کچھ خاموش کر دیا۔ ایک ہی لمحے میں کتنے خواب بکھر گئے، کتنے گھر اُجڑ گئے، کتنی ماؤں کی گودیں خالی ہو گئیں۔ وہ بچے جو چند لمحے پہلے مسکرا رہے تھے، ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ کئی ایسے گھر تھے جہاں شام کو دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے والی آنکھیں ہمیشہ کے لیے منتظر رہ گئیں۔ شرپسند دشمنان اہل بیتؑ نے پانی کے ٹینکر میں ہلاکت خیز بارودی مواد بھر کر ہزارہ ٹاون میں واقع مقامی بازار سے متصل کرانی روڈ پر دھماکہ کر دیا۔
اس سانحے میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے، جن میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ مگر اصل نقصان اعداد میں نہیں ناپا جا سکتا، کیونکہ اس دن صرف انسان نہیں گئے تھے، امیدیں، خواب اور کئی خاندانوں کی پوری دنیا مٹ گئی تھی۔ آج بھی جب 16 فروری آتی ہے تو ہزارہ ٹاؤن کی فضا جیسے خاموش ہو جاتی ہے، قبروں پر رکھے پھول ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ امن کی قیمت کتنی بڑی ہوتی ہے۔ یہ سانحہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ نفرت کی آگ چند لمحوں میں زندگیوں کو جلا دیتی ہے، مگر محبت اور اتحاد ہی وہ راستہ ہے جو شہداء کی قربانیوں کو زندہ رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ اس دھماکہ سے پہلے 10 جنوری 2013 کو کوئٹہ شہر میں علمدار روڈ پر ایک بھیانک اور ہولناک سانحہ ہوا۔ شدید احتجاج کے بعد 10 روز کے لیے گورنر راج تک لگا دیا گیا لیکن ریاست ملت تشیع کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام نظر آئی اور 17 فروری 2013ء کے روز سانحہ علمدار روڈ کے شہداء کے چہلم سے صرف ایک روز قبل کوئٹہ ایک اور دھماکے کی گونج سے لرز گیا۔
ابھی تو صدمے سے دوچار مومنین سنبھل ہی نہ پائے تھے کہ ایک اور سانحہ پیش آ گیا، ایک سانحے کے بعد دوسرا سانحہ، ایک جنازے کے بعد دوسرا جنازہ، یہی کوئٹہ کے شیعہ ہزارہ برادری کا مقدر بن کر رہ گیا۔ اس بیہمانہ قتل عام پر پوری پاکستانی قوم سمیت عالمی برادری دکھی ہوئی تھی اور شہداء کے پسماندگان کے ساتھ بھرپور ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ سانح ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ میں 90 کے قریب مومنین شہید جبکہ 200 کے قریب شدید زخمی ہوئے۔ اتنی لاشیں اٹھانے کے باوجود آج بھی ملت تشیع کے نہ حوصلے پرست ہوئے اور نہ ہی ان کا صبر ٹوٹا، بس اپنے آقا و مولا امام وقت عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کو پکارنے کی شدت بڑھتی گئی۔ سانحہ ہزارہ ٹاون ہو یا سانحہ ترلائی اسلام آباد، پاکستان میں اہل تشیع کی شہادتوں کا یہ سلسلہ رک نہیں سکا، جو ریاست کے اس دعوے پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ ریاست پاکستان ہر شہری کو ’’جان و مال‘‘ کا تحفظ دینے کی پابند ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہمیشہ کے لیے ہزارہ ٹاون ہزارہ ٹاؤن
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ