پرو ہاکی لیگ میں چاروں میچز ہارنے والی قومی ٹیم نے ٹیم مینجمنٹ کے خلاف بغاوت کر دی
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
قومی ہاکی ٹیم پرو ہاکی لیگ میں شرکت کے بعد آسٹریلیا سے وطن واپس پہنچ گئی تاہم پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کوئی نمائندہ کھلاڑیوں کے لیے ایئرپورٹ نہ پہنچا، قومی کپتان نے ٹیم مینجمنٹ کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا۔
لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کپتان قومی ہاکی ٹیم عماد شکیل بٹ نے کھلاڑیوں کے ہمراہ ٹیم مینجمنٹ کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ٹیم مینجمٹ کے ساتھ ورلڈ کپ کوالیفائنگ راونڈ نہیں کھیلیں گے۔
کپتان قومی ہاکی ٹیم عماد شکیل بٹ کا کہنا تھا کہ دورہ آسٹریلیا کے دوران ٹیم مینجمنٹ نے ہوٹل کیا اور نہ ہی اچھی جگہ مہیا کی، کھلاڑی خود کھانا پکاتے رہے اور کپڑے دھوتے رہے، ایسی صورتحال میں ٹیم کیسے پرفارم کرسکتی ہے۔
مزید پڑھیںحکومت نے دورہ آسٹریلیا کے دوران پاکستان ہاکی فیڈریشن کی بدانتظامی کا سخت نوٹس لے لیا
پاکستان ہاکی ٹیم کی آج آسٹریلیا روانگی ملتوی، تاحال آسٹریلوی ویزے جاری نہ ہوسکے
انہوں نے کہا کہ سولہ گھنٹے ہوٹل کےانتظار کیلیے سڑکوں پر ذلیل کیا گیا جبکہ ابھی بھی کئی ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل ٹورز کے ڈیلی الاؤنس بقایا ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو غیر ملکی کوچ اور پرفیشنل لوگوں کی ضرورت ہے، شہباز سینئر کے رول کی آج تک مجھے سمجھ نہیں آئی، ان جیسے لوگوں کو پاکستان ہاکی میں نہیں ہونا چاہیے۔
کپتان قومی ہاکی ٹیم عماد شکیل بٹ نے دورہ آسٹریلیا میں کھلاڑیوں کے ساتھ ناروا سلوک پر وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قومی ہاکی ٹیم پاکستان ہاکی ٹیم مینجمنٹ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔