باجوڑ: چیک پوسٹ پر حملہ ناکام‘ 12 دہشت گرد ہلاک‘11 جوان شہید
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260218-01-25
راولپنڈی /پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) باجوڑ میں سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا کر 12 خوارج کو ہلاک کردیا جب کہ حملے کے دوران 11 اہلکار بھی شہید ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 16 فروری 2026ء کو باجوڑ ضلع میں سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ چیک پوسٹ پر بھارتی سرپرستی میں سرگرم خوارج، جن کا تعلق ‘‘فتنہ الخوارج’’ سے تھا، نے بزدلانہ دہشت گرد حملے کی کوشش کی۔بیان کے مطابق حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کی سیکورٹی توڑنے کی کوشش کی، تاہم سیکورٹی فورسز کے مستعد اور بروقت ردِعمل نے دشمن کے ناپاک عزائم کو فوری اور فیصلہ کن انداز میں ناکام بنا دیا۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہونے والے خوارج کو نشانہ بنایا اور 12 خوارج کو ہلاک کر دیا، حملہ آوروں نے اپنی ناکامی پر دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ شدید دھماکے کے باعث چیک پوسٹ کا انفرا اسٹرکچر منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں وطن کے 11 بہادر سپوت شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دھماکے سے قریبی رہائشی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں ایک کمسن بچی شہید جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 7 شہری زخمی ہوئے۔ بیان کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی سرپرستی میں سرگرم خارجی دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس/سینیٹائزیشن آپریشن کیا گیا۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے حملہ ناکام بنانے پر بہادر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش اور جام شہادت نوش کرنے والے 11 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ بہادر سپوتوں نے جان دے کر 12 دہشت گردوں کو جہنم رسید کیا، شہدا کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔بی بی سی اردو کے مطابق ’ہم جب ملبے تلے سے لوگوں کو نکال رہے تھے، اْس وقت بھی چیک پوسٹ پر فائرنگ ہو رہی تھی جس پر وہاں موجود اہلکاروںنے جوابی کارروائی کی اور جب ایمبولینس اور گاڑیوں پر زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا اس وقت بھی فائرنگ ہوئی۔ یہ کہنا ہے ایک عینی شاہد کا جو پیر کی شام صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں واقع ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ چیک پوسٹ پر ہونے والے دھماکے کے بعد وہاں مدد کے لیے پہنچے تھے۔ علاقے کی صورتحال کے پیشِ نظر انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔ دھماکے کے بعد مقامی مساجد سے اعلان کروا کر مقامی لوگوں کی اطلاع دی گئی اور کہا گیا کہ وہ ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے میں مدد کے لیے موقع پر پہنچیں۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ باجوڑ دھماکے کے بعد ریسکیو اداروں کو فوری اور بھرپور امدادی کارروائیوں کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے جامع اور نتیجہ خیز حکمت عملی ناگزیر ہے۔چینی منصوبوں اور شاہراہِ ریشم سے منسلک اسٹرٹیجک روڈ کوریڈور کو نشانہ بنانے والے فتنہ الخوارج کے منظم نیٹ ورک کے خلاف کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ، ایلیٹ فورس اور ضلعی پولیس شانگلہ نے کبل گرام کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں انٹیلی جنس بیسڈ ٹارگٹڈ جوائنٹ آپریشن کرتے ہوئے 3 دہشت گرد ہلاک کر دیے۔ پولیس کے مطابق پولیس جب غاروں میں موجود ٹھکانوں کی جانب بڑھی تو دہشت گردوں سے آمنا سامنا ہوا جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اس دوران 3 دہشت گرد مارے گئے جن میں نور اسلام عرف سلمان عرف خوگ بچہ ولد زمان ولی ساکن کبل گرام شانگلہ فتنہ الخوارج کا سرغنہ تھا جس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی، جبکہ ایک دہشت گرد نامعلوم ہے جس کی شناخت کا عمل جاری ہے اور تیسرے دہشت گرد نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس دوران فرض کی راہ میں بہادری سے لڑتے ہوئے پولیس کے 3 جوان جامِ شہادت نوش کر گئے۔پولیس کے مطابق انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے شہید جوانوں کو خراج عقیدت اور زخمی جوانوں کی ہمت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کے پی پولیس نے کبھی پیٹھ نہیں دکھائی اور قوم کے لیے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکورٹی فورسز چیک پوسٹ پر دھماکے کے کرتے ہوئے کرنے والے نے کہا کہ کے مطابق کو خراج کے لیے
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔