میئر کراچی کیخلاف تحریک عدم اعتماد، سیف الدین کی جے یوآئی کے پارلیمانی لیڈر سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے سٹی کونسل کے اراکین کے وفد نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں جمعیت علما اسلام کے پارلیمانی لیڈر مفتی خالد سے الجمعیت سیکرٹریٹ ضلع غربی میں ملاقات کی۔ بعدازاں سیف الدین ایڈووکیٹ نے جے یوآئی کے رہنماؤں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میئر کراچی ناکام ہوچکے ہیں، تحریک عدم اعتماد ناگزیر ہے، پیپلزپارٹی کراچی کے لیے کچھ ڈیلیور نہیں کرسکی، اس کی 18 سالہ کارکردگی دیکھتے ہوئے آئندہ بہتری کی کوئی اُمید نہیں کی جاسکتی، جے یوآئی کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں کراچی کے ہر شعبے میں بدترین صورتحال پر مکمل اتفاق رائے پایا گیا اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ مسلم لیگ ن، ٹی ایل پی اور پی ٹی آئی کے اتحادی ارکان سے بھی مشاورت جاری ہے، پیپلز پارٹی کے ارکان سے بھی انفرادی طور پر رابطے کیے جا رہے ہیں، اب تک کی صورتحال انتہائی حوصلہ افزا ہے اور تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ سیف الدین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا اگر خفیہ رائے دہی کا موقع دیا جائے تو پیپلز پارٹی کے 3 چوتھائی ارکان بھی عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیں گے، چند دنوں میں اہل کراچی کو خوشخبری ملے گی، جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو موجودہ ناکام،کرپٹ اورقابض نظام سے نجات دلانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔مفتی خالد نے کہاکہ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈرسیف الدین ایڈووکیٹ کی زیر قیادت جماعت اسلامی کے وفد کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا وفد شہر کے مسائل اور سٹی کونسل میں آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کے لیے آیا ہے ،ہم اس کا خیر مقدمم کرتے ہیں، ان کی تجاویز پر اپنی قیادت سے بات کریں گے، ان کے ساتھ مشاورتی عمل جاری رہے گا، شہر کے اچھے مستقبل کے لیے بہتر فیصلہ کریں گے۔جماعت اسلامی کے وفد میں اراکین سٹی کونسل نعمان الیاس، عمیر اکرم اور تیمور احمد شامل تھے، ملاقات میں جے یوآئی کے مفتی خالد، مصطفی برکی اور دیگر موجود تھے۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے سٹی کونسل میں تحریک عدم اعتماد کے لیے اپنے اراکین سے دستخط لے لیے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ پانی، سیوریج، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سڑکوں اور امن و امان سمیت کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں جہاں بہتری آئی ہو۔ ہر جگہ بدانتظامی، لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم ہے۔ گل پلازہ سانحے نے پورے نظام کی ناکامی اور کرپشن کو بے نقاب کر دیا ہے، جس سے ثابت ہو گیا کہ موجودہ حکومت میں نہ اہلیت ہے اور نہ ہی صلاحیت، موجودہ حالات میں جماعت اسلامی اہل کراچی کو تنہا نہیں چھوڑے گی،قابض میئر اور پیپلز پارٹی کی حکومت سے کراچی کو نجات دلانے کے لیے بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔ قابض میئر سے نہ تو سٹی کونسل کے اجلاس درست انداز میں چلائے جا رہے ہیں اور نہ ہی کونسل کو اعتماد میں لے کر منصوبے منظور کیے جا رہے ہیں جبکہ جہانگیر روڈ سمیت مختلف پروجیکٹ پر غیرمعیاری کام کیا جارہا ہے۔ کونسل میں سرکاری قراردادیں پیش کی جاتی ہیں لیکن عملی طور پر زمین پر کوئی کام نظر نہیں آتا۔
اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے اراکین سٹی کونسل کاوفد میئر کراچی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈر مفتی خالد سے ان کے دفتر میں ملاقات کررہاہے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیف الدین ایڈووکیٹ کے پارلیمانی لیڈر تحریک عدم اعتماد جماعت اسلامی کے عدم اعتماد کے جے یوا ئی کے میئر کراچی مفتی خالد سٹی کونسل کراچی کے ا ئی کے کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔