Jasarat News:
2026-06-02@20:41:55 GMT

اسرائیلی جنگی جرائم سے چشم پوشی

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

معلومات کے اس جدید دور میں جہاں کچھ اہم واقعات دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں، وہیں کچھ دوسرے مساوی اہمیت کے حامل واقعات نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں بھی ایسا ہی ہوا، جب عالمی میڈیا، بین الاقوامی اشرافیہ اور سرکردہ سیاست دانوں کی تمام تر توجہ ’ایپسٹین فائلز‘ (Epstein files) پر مرکوز رہی۔ وہ 30 لاکھ سے زائد ای میلز اور 1400 ویڈیوز کے اثرات پر غور کر رہے ہیں جن سے مغربی دارالحکومتوں میں ہلچل مچنے کا امکان ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اْن کے پاس اس کے علاوہ کرنے کے لیے کچھ نہیں۔ لندن، واشنگٹن، پیرس، برلن اور روم سمیت تمام بڑے دارالحکومت اسی معاملے میں الجھے ہوئے ہیں، اور یہی حال عالمی کارپوریٹ میڈیا کا ہے جو اس اسکینڈل کو چوبیس گھنٹے کوریج دے رہا ہے۔ لیکن امریکی کانگریس کی پرجوش تقریروں اور برطانیہ کے سیاسی طوفان سے پرے، ’الجزیرہ‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں اسرائیلی جنگی جرائم کے حوالے سے ایسے ہولناک انکشافات کیے گئے ہیں جو پہلے رپورٹ نہیں ہوئے تھے۔ عرب میڈیا ادارے کے مطابق، غزہ میں سول ڈیفنس ٹیموں نے 2,842 ایسے فلسطینیوں کی دستاویز تیار کی ہے جو اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ’’بخارات‘‘ بن کر اُڑ گئے (evaporated)۔ ان کے خون کے چھینٹوں یا گوشت کے چھوٹے ذرات کے سوا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہا۔

ماہرین اور گواہوں کے حوالے سے دوحا میں قائم اس میڈیا گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانی جسموں کا غائب ہو جانا بین الاقوامی سطح پر ممنوع ہتھیاروں کے استعمال کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق: ’’ماہرین اور عینی شاہدین اس رجحان کی وجہ اسرائیل کی جانب سے تسلسل کے ساتھ ان تھرمل اور تھرموبارک ہتھیاروں (ویکیوم یا ایروسول بم) کا استعمال بتاتے ہیں جو 3,500 ڈگری سیلسیس سے زیادہ درجہ حرارت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘‘۔ میڈیا آؤٹ لیٹ کا دعویٰ ہے کہ 2,842 کی یہ تعداد محض ایک اندازہ نہیں بلکہ غزہ کی سول ڈیفنس کی جانب سے کی گئی باقاعدہ فرانزک تحقیقات کا نتیجہ ہے۔ ترجمان محمود بصل نے الجزیرہ کو بتایا کہ ٹیمیں حملے کے مقامات پر ’خاتمہ کا طریقہ‘ (method of elimination) استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ’’ہم نشانہ بننے والے گھر میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں رہنے والے افراد کی معلوم تعداد کا برآمد ہونے والی لاشوں سے موازنہ کرتے ہیں۔ اگر خاندان ہمیں بتاتا ہے کہ اندر پانچ افراد تھے اور ہمیں صرف تین لاشیں ملتی ہیں، تو ہم بقیہ دو کو ’بخارات بن جانے والا‘ تب ہی قرار دیتے ہیں جب مکمل تلاشی کے باوجود حیاتیاتی نشانات، دیواروں پر خون کے چھینٹوں یا کھوپڑی کے بالوں جیسے چھوٹے ٹکڑوں کے سوا کچھ نہ ملے‘‘۔

الجزیرہ کی تحقیقات میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح اسرائیلی گولہ بارود میں موجود مخصوص کیمیائی اجزاء انسانی جسموں کو سیکنڈوں میں راکھ میں بدل دیتے ہیں۔ ایک روسی فوجی ماہر واسیلی فیٹیگاروف نے بتایا کہ تھرموبارک ہتھیار صرف قتل نہیں کرتے بلکہ مادے کو مٹا دیتے ہیں۔ روایتی بارود کے برعکس، یہ ہتھیار ایندھن کا ایک بادل پھیلاتے ہیں جو بھڑک کر ایک بہت بڑا آگ کا گولا اور ’ویکیوم اثر‘ پیدا کرتا ہے۔ فیٹیگاروف نے مزید بتایا کہ ایلومینیم، میگنیشیم اور ٹائٹینیم کے پاؤڈر اس کیمیائی آمیزے میں شامل کیے جاتے ہیں تاکہ جلنے کا وقت طویل ہو جائے، جس سے دھماکے کا درجہ حرارت 2,500 سے 3,000 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ ہولناک تفصیل کسی کے بھی رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہے۔

اسرائیل اس وحشیانہ کارروائی میں اکیلا نہیں تھا، بلکہ امریکا اور مغربی ممالک نے اسے تباہی کے یہ ہتھیار فراہم کیے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ شدید حرارت اکثر ’ٹرائٹونل‘ (tritonal) سے پیدا ہوتی ہے، جو ٹی این ٹی اور ایلومینیم پاؤڈر کا مرکب ہے اور امریکا کے بنائے ہوئے MK-84 جیسے بموں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ 900 کلوگرام وزنی بم 3,500 ڈگری سیلسیس تک حرارت پیدا کرتا ہے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا کہ ستمبر 2024 میں المواصی کے علاقے میں، جسے اسرائیل نے فلسطینیوں کے لیے ’’محفوظ زون‘‘ قرار دیا تھا، ’BLU-109 بنکر بسٹر‘ بم استعمال کیا گیا۔ یہ بم زمین میں گہرائی تک جا کر دھماکا کرتا ہے اور بند جگہوں کے اندر آگ کا گولا بنا کر ہر چیز کو خاکستر کر دیتا ہے۔ اسی طرح ’التابعین‘ اسکول پر حملے میں GBU-39 گائیڈڈ بم کے استعمال کا دعویٰ کیا گیا ہے، جو عمارت کو برقرار رکھتے ہوئے اندر موجود تمام جانداروں کے پھیپھڑوں کو ہوا کے دباؤ سے پھاڑ دیتا ہے اور ٹشوز کو جلا دیتا ہے۔ ٹی آر ٹی، مڈل ایسٹ آئی اور برطانیہ کے نووارا

میڈیا جیسے اداروں نے تو اس رپورٹ کا حوالہ دیا، لیکن زیادہ تر مغربی صحافی اور میڈیا ہاؤسز ان دھماکا خیز انکشافات سے لاتعلق رہے۔ یہی حال ان سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا رہا جو کھانا پکانے سے لے کر ٹرمپ کی باتوں تک ہر چیز پر تبصرہ کرتے ہیں لیکن یہاں خاموش رہے۔ بڑے مسلم ممالک نے بھی اس رپورٹ پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ انہوں نے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کرنے یا کوئی ہنگامی اجلاس بلانے کی زحمت نہیں کی، جبکہ ان سنگین جرائم پر عالمی برادری کو نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔

بے حس عالمی اشرافیہ سے امیدیں وابستہ کرنا فضول ہے، لیکن دنیا بھر میں کروڑوں باضمیر لوگ اب بھی موجود ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹیمیں غزہ بھیج کر ان حقائق کی تصدیق کریں۔ دنیا کو صرف ایران کے جوہری پروگرام پر ہی بات نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسرائیل پر بھی توجہ دینی چاہیے جو مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو اسرائیل کے ایٹمی پروگرام کی حقیقت جاننے کے لیے وہاں اپنی ٹیمیں بھیجنی چاہئیں۔ سعودی عرب اور قطر جیسے عرب ممالک اس حوالے سے بہتر پوزیشن میں ہیں کہ وہ الجزیرہ کی رپورٹ کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کریں۔ ان ممالک کے مغرب کے ساتھ گہرے تعلقات اور بڑی سرمایہ کاری ہے۔ وہ اپنے اس اثر و رسوخ (soft power) کو استعمال کر کے مغربی عوام اور حکومتوں کو ان جرائم کے خلاف متحرک کر سکتے ہیں۔ اگر عرب اور مسلم ممالک کی جانب سے ٹھوس کوششیں کی جائیں، تو کوئی وجہ نہیں کہ سرمایہ دارانہ ممالک کے عوام اپنی حکومتوں کو ان وحشیانہ کارروائیوں کا حساب لینے پر مجبور نہ کر سکیں۔ (بشکریہ: دی نیوز)

عبد الستار سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

پنجاب میں عید پر صفائی آپریشن مثالی رہا، ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، مریم اورنگزیب


مریم اورنگزیب : فائل فوٹو 

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ستھرا پنجاب اتھارٹی نے عیدالاضحیٰ پر شاندار کارکردگی دکھائی، عید پر صفائی آپریشن مثالی رہا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ صفائی کی مانیٹرنگ کے لیے پہلی بار ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز سرجری کے باوجود صفائی آپریشن کی نگرانی کرتی رہیں، وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب ورکرز کے لیے 10، 10ہزار روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • پنجاب میں عید پر صفائی آپریشن مثالی رہا، ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، مریم اورنگزیب