رمضان سے قبل پیٹرول نرخ میں اضافے سے مہنگائی انتہا کو پہنچے گی، این ایل ایف
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260218-8-1
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر)نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے صدر شکیل احمد شیخ ،مرکزی نائب صدر تشکیل احمد صدیقی ، نائب صدر قاسم جمال، جنرل سیکرٹری محمد عمر شر، حیدرآباد زون کے صدر عبد القیوم بھٹی، سینئر نائب صدر مبین راجپوت،جنرل سیکرٹری اعجاز حسین ، سیکرٹری اطلاعات محمد احسن شیخ اور دیگر عہدیدران نے اپنے مشترکہ بیان میں حکومت کی جانب سے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی ہوشربا مہنگائی میںغریب محنت کشوں کی مشکلات کا سامنا ہے مزید یہ کہ حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے غریب محنت کشوں کو پچھلے 16 ماہ سے زاید تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے جو کہ انکا بنیادی حق ہے اور رمضان کی آمد ہے ملک میں رمضان کی آمد سے پہلے ہی روز مرہ کی اشیاء میں مہنگائی عروج پر پہنچ جاتی اور حکومت کی جانب سے ستم ظریفی یہ ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر غریب عوام پر بے تحاشہ مہنگائی کا طوفان کھڑ ا کردیا ہے جس سے محنت کشوں کی ایک وقت کی روٹی بھی حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے ،بے روزگاری سے ملک میں بے پناہ صنعتیں مسلسل بند ہو رہی ہیں معیشت کا برا حال ہے لیکن حکومت اپنے شاہ خرچیوں اور اپنی من مستیوں میں مشغول ہے عوام کی کوئی فکر نہیں ہے جس کی وجہ سے عوام میں موجودہ مہنگائی میں اضافہ سے انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شکیل احمد شیخ نے کہا کہ حکومت فوری طور پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو واپس لے اور روز مرہ کی اشیاء آٹا، دالیں ، گھی، تیل ، چینی ، مرچ مصالوں وغیرہ پر فوری طور پر رمضان کی آمد کے موقع پر قیمتوں میں کمی کا اعلان کرے تا کہ غریب مزدور مقدس مہینے کی عبادت کر سکیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ