وفاقی حکومت کا سحر و افطار میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
وفاقی حکومت نے رمضان المبارک میں سحر اور افطار کے اوقات میں بلاتعطل بجلی فراہم کرنے کا اعلان کر دیا۔
وفاقی وزیر پاور اویس لغاری نے رمضان المبارک میں سحر و افطار کی اوقات میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے حوالے سے کےالیکٹرک اور ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایات جاری کر دیں۔
سوئی سدرن گیس کمپنی نے سندھ اور بلوچستان کیلیے ماہ رمضان المبارک کے دوران گیس کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔
پاور ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر نے تمام ڈسکوز کو بجلی صارفین کی شکایات کے فوری ازالے کی ہدایت کی ہے، انہوں نے تمام ڈسکوز کے سی ای اوز کو کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
اعلامیے کے مطابق ہائی لاسز والے علاقوں میں کو انسداد بجلی چوری مہم کے مطابق ڈیل کیا جائے گا، اس فیصلے کا مقصد بقایاجات اور نقصانات میں اضافے کو روکنا ہے۔
اعلامیے کے مطابق زیادہ نقصانات والے علاقوں میں بھی سحر و افطار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رمضان میں زیادہ نقصانات والے علاقوں میں لوڈ مینجمنٹ کو سحر افطار کے اوقات میں ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ڈسکوز کو غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعلامیے کے مطابق رمضان المبارک
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا