وفاقی حکومت کی سحر و افطار میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر بجلی اویس احمد لغاری نے رمضان المبارک کے دوران سحر اور افطار میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔
وفاقی وزیر اویس لغاری کے رمضان المبارک میں سحر و افطار میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے احکامات جاری کر دیے اور پاور ڈویژن نے رمضان المبارک میں کے-الیکٹرک سمیت تمام بجلی کمپنیوں کے لیے ایس او پیز جاری کردیے ہیں۔
اسی طرح وفاقی وزیر نے تمام ڈسکوز کو بجلی صارفین کی شکایات کے فوری ازالے اور تمام ڈسکوز کے سی ای اوز کو کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
پاورڈویژن کی جانب سے ہائی لاسز والے علاقوں میں انسداد بجلی چوری مہم کے مطابق ڈیل کرنے کے احکامات دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس فیصلے کا مقصد بقایاجات اور نقصانات میں اضافے کو روکنا ہے۔
وفاقی وزیر کی جانب سے زیادہ نقصانات والے علاقوں میں بھی سحر وافطار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے اور رمضان میں زیادہ نقصانات والے علاقوں میں لوڈمنیجمنٹ سحر و افطار کے علاوہ اوقات میں ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اویس لغاری نے ڈسکوز کو غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے اجتناب کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر افطار میں کی ہدایت
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔