مغربی کنارے پر قبضے کا اسرائیلی اقدام، دنیا کے 100 ممالک نے مذمت کردی
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
یروشلم: مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں زمین کو نام نہاد ’ریاستی اراضی‘ قرار دینے کے اسرائیلی اقدام پر دنیا بھر کے تقریباً 100 ممالک اور تین بڑے عالمی و علاقائی بلاکس نے سخت ردعمل دیا ہے۔
عرب لیگ، یورپی یونین اور او آئی سی نے اسرائیل سے اس فیصلے کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
فلسطینی مشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ اقدام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کو مزید مضبوط کرنے اور دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
آٹھ رکنی مسلم بلاک کے وزرائے خارجہ نے بھی اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن اور آبادکاری کے نئے طریقہ کار کی منظوری کی مذمت کی ہے۔
ادھر اسرائیلی کابینہ نے گزشتہ ہفتے ایسے اقدامات کی منظوری دی جن کے تحت ویسٹ بینک کے ایریاز اے اور بی میں اسرائیلی سول اختیار کو بڑھایا جائے گا، جو مجموعی طور پر تقریباً 40 فیصد علاقے پر مشتمل ہیں۔
اسرائیلی این جی او ’پیس ناؤ‘ نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کی نئی منصوبہ بندی 1967 کے بعد پہلی بار یروشلم کی حدود کو مغربی کنارے تک وسعت دینے کے مترادف ہو سکتی ہے۔
تنظیم کے مطابق یہ توسیع جیووا بنیامین (ایڈم) نامی بستی کے مغرب کی جانب ہوگی، تاہم اس کا براہِ راست جغرافیائی تعلق موجودہ بستی سے نہیں ہوگا بلکہ اسے یروشلم سے جوڑا جائے گا۔
دوسری جانب مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے سینئر امام شیخ محمد العباسی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نے انہیں مسجد کے احاطے میں داخلے سے ایک ہفتے کے لیے روک دیا ہے، اور اس پابندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
یہ اقدام ماہِ رمضان سے چند روز قبل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے لیے یروشلم داخلے کے 10 ہزار اجازت ناموں کی سفارش کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور امن عمل کے امکانات کو متاثر کر سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سکتی ہے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔