WE News:
2026-07-24@00:43:00 GMT

کوئٹہ میں سی ٹی ڈی کا بڑا آپریشن، 8 مبینہ دہشت گرد ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

کوئٹہ میں سی ٹی ڈی کا بڑا آپریشن، 8 مبینہ دہشت گرد ہلاک

کوئٹہ کے علاقے درخشاں میں محکمہ انسداد دہشتگردی یعنی سی ٹی ڈی نے ایک کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 8 مبینہ دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع پر کی گئی، جہاں مشتبہ افراد کی موجودگی کی اطلاع تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: سی ٹی ڈی کی کارروائی میں 2 دہشتگرد ہلاک، دھماکا خیز مواد برآمد

آپریشن کے دوران دہشت گردوں نے فائرنگ کی جس پر جوابی کارروائی کی گئی۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 8 مبینہ دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

ترجمان کے مطابق مقابلے کے دوران سی ٹی ڈی کے 3 اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک افراد کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ: سی ٹی ڈی کی کارروائی میں کالعدم تنظیم کا اہم رکن مارا گیا

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے بتایا جارہا ہے۔

حکام کے مطابق علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید تفتیش جاری ہے جبکہ واقعے سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان سی ٹی ڈی کالعدم تنظیم کوئٹہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان سی ٹی ڈی کالعدم تنظیم کوئٹہ کے مطابق سی ٹی ڈی

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک