سعودی عرب میں رمضان المبارک کی پہلی تراویح کے موقع پر مسجد الحرام اور مسجد النبوی میں ایمان افروز مناظر دیکھنے میں آئے۔

دنیا بھر سے آئے ہزاروں نمازیوں نے مقدس مساجد میں عبادت کی سعادت حاصل کی اور ماہِ رمضان ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے مغفرت اور رحمت کی دعائیں مانگیں۔

 

مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کے گرد اور مسجد نبویؐ میں روضہ رسول ﷺ کے قریب نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ روح پرور مناظر نے دیکھنے والوں کے دل موہ لیے اور عبادت گزاروں پر رقت طاری رہی۔

 

یاد رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، عراق، یمن، لبنان، فلسطین اور افغانستان میں رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد آج پہلا روزہ رکھا جا رہا ہے۔

 

دوسری جانب ترکیے، سوئیڈن، آسٹریلیا، مصر، عمان، ملائیشیا، سنگاپور، برونائی، انڈونیشیا، فلپائن، آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان، ازبکستان، فرانس اور جاپان میں پہلا روزہ جمعرات کو ہوگا۔

Surat Al-Baqarah | Ayah 185 - 186 | Shaykh Abdul Rahman Sudais pic.

twitter.com/1VZEzcZjRv

— ???????????????????????????????? (@HaramainInfo) February 18, 2026

امریکا، کینیڈا، بیلجیئم اور برطانیہ میں چاند کی رویت کے معاملے پر کمیونٹی میں اختلاف پایا جاتا ہے، جہاں بعض حلقوں نے آج جبکہ دیگر نے جمعرات سے رمضان شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل