رمضان کی پہلی تراویح: مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ میں ایمان افروز مناظر
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
سعودی عرب میں رمضان المبارک کی پہلی تراویح کے موقع پر مسجد الحرام اور مسجد النبوی میں ایمان افروز مناظر دیکھنے میں آئے۔
دنیا بھر سے آئے ہزاروں نمازیوں نے مقدس مساجد میں عبادت کی سعادت حاصل کی اور ماہِ رمضان ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے مغفرت اور رحمت کی دعائیں مانگیں۔
مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کے گرد اور مسجد نبویؐ میں روضہ رسول ﷺ کے قریب نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ روح پرور مناظر نے دیکھنے والوں کے دل موہ لیے اور عبادت گزاروں پر رقت طاری رہی۔
یاد رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، عراق، یمن، لبنان، فلسطین اور افغانستان میں رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد آج پہلا روزہ رکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ترکیے، سوئیڈن، آسٹریلیا، مصر، عمان، ملائیشیا، سنگاپور، برونائی، انڈونیشیا، فلپائن، آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان، ازبکستان، فرانس اور جاپان میں پہلا روزہ جمعرات کو ہوگا۔
Surat Al-Baqarah | Ayah 185 - 186 | Shaykh Abdul Rahman Sudais pic.
امریکا، کینیڈا، بیلجیئم اور برطانیہ میں چاند کی رویت کے معاملے پر کمیونٹی میں اختلاف پایا جاتا ہے، جہاں بعض حلقوں نے آج جبکہ دیگر نے جمعرات سے رمضان شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔