Juraat:
2026-06-02@22:24:40 GMT

سندھ سولڈ میں کرپشن کا بازار گرم، ملازمین ہراساں

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

سندھ سولڈ میں کرپشن کا بازار گرم، ملازمین ہراساں

نئے آنے والے افسران نے ملازمین کو ذہنی اذیت دے کر آپریشن متاثر کرنا شروع کر دیا
ماہ رمضان کی آمد سے قبل ہی چھانٹی کا عمل شروع کر دیا گیا ،مزدور طبقہ فاقہ کشی پر مجبور

سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ملازمین نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گانسو بگوئیوان پرائیویٹ لمیٹڈ نامی چائنیز کمپنی کے جی ایم محمد حسین شیخ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ملازمین کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ۔
ذرائع کے مطابق آپریشن منیجر ،انچارجز سپر وائزر سمیت پوری ٹیم کو ہراساں کر کے استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا، نئے آنے والے افسران اے جی ایم صدام، ایچ آر ذوالفقار، عبدلغفار، شہباز ودیگر نے ملازمین کو
ذہنی اذیت دے کر آپریشن متاثر کرنا شروع کر دیا۔ معتبر ذرائع کے مطابق نئے آنے والے افسران نے کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ۔ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا روزانہ کی بنیاد پر تین
شفٹوں میں لیبر،فیول ٹرانسپورٹ کی مد میں لاکھوں روپوں کی بے ظابطگیاں کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جعلی بھرتیوں کے ذریعے بھی لاکھوں روپے بٹورے جاتے ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ ماہ رمضان کی آمد
سے قبل ہی چھانٹی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس سے مزدور طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہوگا۔ملازمین کا کہنا ہے کہ جی ایم محمد حسین شیخ نے اپنی نئی آنے والی ٹیم کو مکمل اختیارات دے کر کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
شہباز ،ذوالفقار،عبدالغفار نامی افسران ضلع وسطی یارڈ ورکشاپ میں کھلے عام اسلحے کی نمائش اور ہوائی فائرنگ کر کے ملازمین کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جس سے کافی تشویش پائی جاتی ہے جو
کسی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ انسانی حقوق کے نمائندگان نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غریب ملازمین کا معاشی قتل ہونے سے بچایا جائے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: شروع کر دیا ملازمین کو

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت