وفاقی حکومت نے رمضان المبارک 2026 کے لیے دفتری اوقات کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
وفاقی حکومت نے رمضان المبارک 2026 کے دوران سرکاری دفاتر کے اوقات کار کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ رمضان کا آغاز 19 فروری سے متوقع ہے۔
اعلامیے کے مطابق 5 روزہ ورک ویک والے سرکاری دفاتر سوموار سے جمعرات صبح 9 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک کھلے رہیں گے، جبکہ جمعہ کے روز دفاتر 9 بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک کام کریں گے۔
6 روزہ ورک ویک کے اوقات6 روزہ ورک ویک کے تحت کام کرنے والے ملازمین کے لیے سوموار تا جمعرات اور ہفتہ کے روز اوقات صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ جمعہ کو دفتری اوقات صبح 9 بجے سے 12:30 بجے تک ہوں گے۔
مزید پڑھیں: دفتری اوقات کے بعد ملازمین کو ڈسٹرب کرنے پر اداروں پر بھاری جرمانے کا قانون منظور
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام رمضان المبارک کے دوران سرکاری امور کو مؤثر اور منظم انداز میں چلانے کے لیے کیا گیا ہے۔
سندھ حکومت نے بھی اوقات کار جاری کر دیےاس سے قبل حکومت سندھ نے بھی رمضان 2026 کے لیے سرکاری دفاتر کے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
صوبائی اعلامیے کے مطابق سوموار سے جمعرات دفاتر صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک کھلے رہیں گے، جبکہ جمعہ کو اوقات صبح 10 بجے سے دوپہر 1 بجے تک ہوں گے۔
مزید پڑھیں: سرکاری ملازمین کے لیے ہفتے میں 4 دن کام اور اوقات کار بھی کم کرنے کا اعلان
یہ نوٹیفکیشن چیف سیکریٹری سندھ کی منظوری سے جاری کیا گیا اور اس کا اطلاق صوبے کے تمام سرکاری محکموں، خودمختار اداروں، نجی اداروں اور بلدیاتی کونسلز پر ہوگا۔
صوبائی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ رمضان کے دوران مقررہ اوقات کار پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دفتری اوقات رمضان المبارک 2026 سندھ حکومت وفاقی حکومت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دفتری اوقات رمضان المبارک 2026 سندھ حکومت وفاقی حکومت رمضان المبارک دفتری اوقات وفاقی حکومت اوقات کار اوقات کا بجے تک کے لیے
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ