سرکاری ملازمین کے مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع ہوجائے گا، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260218-01-16
لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب حکومت کو خبردار کیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی سرکاری ملازمین کے احتجاج کی مکمل حمایت کرتی ہے اور ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔امیر جماعت اسلامی سول سیکرٹریٹ لاہور کے باہر مطالبات کے حق میں دھرنا دینے والے سرکاری ملازمین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاجی کیمپ میں پہنچے اور شرکا سے خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے زور دیا کہ پنجاب حکومت بااختیار صوبائی وزرا پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے جو مظاہرین سے مذاکرات کرے اور بعد میں مظاہرین کے وفد کی وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کا بندوبست کیا جائے، سابقہ میٹنگ میں طے ہونے والے معاملات کو قبول کیا جائے۔ امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب وسطی جاوید قصوری ، امیر لاہور ضیا الدین انصاری اور صدر نیشنل لیبر فیڈریشن شمس الرحمن سواتی بھی اس موقع پر موجود تھے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ ایسا ماحول بنا رہے ہیں، جیسے پنجاب میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گریڈ 1سے گریڈ 22 تک کے سرکاری ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی لیو انکیش منٹ پنشن اور دیگر مراعات ختم کی جا رہی ہیں جو سراسر ناانصافی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی جماعتوں کے بجائے خاندانوں کے نام ہیں جبکہ عوام کے مسائل سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے سوال کیا کہ صوبے میں 1 کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر کیوں ہیں اور کم عمر بچے مزدوری پر مجبور کیوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمے داریوں سے جان چھڑا کر اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کررہی ہے جبکہ بنیادی صحت مراکز چلانا حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کا نظام تباہ کر دیا گیا ہے اور غریب و امیر کے لیے الگ الگ معیار کی تعلیم قائم ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آنے والی حکومت نے گڈ گورننس کے دعوئوں کے باوجود عوام اور ملازمین کو مایوس کیا ہے۔ سول سیکرٹریٹ کے سامنے ماؤں اور بہنوں کا دھرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پنجاب حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین کی پنشن میں کسی قسم کی کٹوتی قابل قبول نہیں اور ان کے تمام جائز مطالبات کی بھرپور حمایت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سرکاری ملازمین کا نہیں بلکہ ہر محنت کش کا مسئلہ ہے، اس لیے جماعت اسلامی احتجاج کے تسلسل میں مظاہرین کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کسانوں کے مسائل پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کسانوں کے ساتھ ظلم کر رہی ہے، گندم کی قیمت مقرر کرنے کے بعد خریداری روک دی جاتی ہے اور کسان سے 2100 روپے من گندم خرید کر 6000 روپے من فروخت کی جاتی ہے، جو کھلی لوٹ مار ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ احتجاجی مظاہرین سے فوری مذاکرات کر کے مسئلہ حل کیا جائے، بصورت دیگر اگر کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو جماعت اسلامی سرکاری ملازمین کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی اور احتجاج کا دائرہ پورے صوبے میں پھیلایا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سول سیکرٹریٹ لاہور کے سامنے سرکاری ملازمین کے مظاہرہ سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے سرکاری ملازمین کے امیر جماعت اسلامی انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کیا کہ
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کےلیے ڈرون مانیٹرنگ شروع کردی گئی ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے ڈرون مانیٹرنگ سے سیلابی ریلے کی آمد کی نشاندہی ممکن ہوگی۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی ڈرون سرویلنس شروع کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تریموں بیراج میں ڈرون سرویلنس کے دوران واٹر لیول نارمل پایا گیا، پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں بھی واٹر لیول کی ڈرون مانیٹرنگ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں دریائے چناب کے طالب والا پل پر ڈرون مانیٹرنگ میں پانی کا بہاؤ نارمل پایا گیا۔ ہیڈسدھنائی پر ڈرون مانیٹرنگ سے پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا گیا۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ہیڈ مرالہ میں ڈرون سرویلنس کے دوران پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رسول بیراج پر بھی پانی کا مانیٹر کیا گیا۔