سپریم کورٹ: لطیف کھوسہ کی عمران خان سے ملاقات کی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
سپریم کورٹ: لطیف کھوسہ کی عمران خان سے ملاقات کی درخواست مسترد WhatsAppFacebookTwitter 0 18 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے وکیل رہنما اور ممبر قومی اسمبلی لطیف کھوسہ کی عمران خان سے ملاقات کی استدعا مسترد کردی۔
توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کے معاملے پر کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی جس دوران عمران خان کی جانب سے لطیف کھوسہ پیش ہوئے۔
دوران سماعت لطیف کھوسہ نے کہا ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے، جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ آپ نے ہم سے ازخود نوٹس کا اختیار لے لیا ہے، ہم ایک فوجداری مقدمے میں ملاقات کا حکم کیسے دے سکتے ہیں۔
جسٹس صلاح الدین پہنور کا کہنا تھا جو کیس ہمارے سامنے فکس ہی نہیں اس پر حکم کیسے جاری کریں جبکہ جسٹس ہاشم کاکڑ کا کہنا تھا عدالت میں کھڑے ہو کر سیاسی باتیں نہ کریں، سیاسی باتیں پارلیمنٹ جاکر کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کے لطیف کھوسہ کی گفتگو پر مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ٹھیک ہے آپ نے بات کر دی، اب اس کے ٹکرز بھی چلیں گے، وی لاگز بھی ہو جائیں گے۔
سپریم کورٹ نے لطیف کھوسہ کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرانے کی استدعا مسترد کردی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرافغان حکام نے تین پاکستانی فوجیوں کو رہا کر دیا مرد عورتوں کے محافظ ہیں قاتل نہیں، سپریم کورٹ نے بیوی کو قتل کرنے والے منشیات کے عادی شوہر کی اپیل خارج کر دی مسلم لیگ (ق) ڈنمارک کے نومنتخب صدر راجہ فرہاد کے اعزاز میں عشائیہ وزیراعلیٰ کے پی کا عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان جہانگیر ترین کامیاں چنوں میں گرلز ڈگری کالج بنانے کا اعلان ،5 ایکڑ زمین وقف کردی منشیات و اسلحہ برآمدگی کیس: صحافی مطیع اللہ جان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ پنجاب حکومت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کیخلاف اپیلیں واپس لے لیںCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عمران خان سے ملاقات لطیف کھوسہ کی سپریم کورٹ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔