رمضان المبارک میں قرآن سے تعلق مضبوط کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، شیخ احمد نوری
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
ممبر جی بی کونسل و صدر مجلس علماء مکتبِ اہلِ بیت بلتستان نے ایک بیان میں کہا کہ ضلعی و صوبائی انتظامیہ رمضان المبارک کے دوران اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور ناجائز منافع خوری کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے تاکہ عوام الناس بالخصوص غریب اور متوسط طبقہ کو ریلیف مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ رمضان المبارک کی آمد پر ممبر جی بی کونسل و صدر مجلس علماء مکتبِ اہلِ بیت بلتستان شیخ احمد علی نوری نے کہا ہے کہ رمضان المبارک رحمت، مغفرت اور نجات کا مہینہ ہے جو ہمیں تقویٰ، صبر، ایثار اور اخوت کا درس دیتا ہے۔ اس بابرکت مہینے میں قرآنِ کریم سے تعلق مضبوط کرنا، عبادات کی کثرت کرنا اور مستحقین و ناداروں کا خاص خیال رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ رمضان المبارک ہمیں خود احتسابی، اصلاحِ نفس اور معاشرے میں محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کے فروغ کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی و صوبائی انتظامیہ رمضان المبارک کے دوران اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور ناجائز منافع خوری کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے تاکہ عوام الناس بالخصوص غریب اور متوسط طبقہ کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے محکمہ برقیات پر زور دیا کہ سحر و افطار کے اوقات میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہمیں اتحاد، برداشت اور باہمی احترام کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے اہلِ بلتستان سمیت پوری امتِ مسلمہ کو رمضان المبارک کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس بابرکت مہینے کو ہم سب کے لیے خیر و برکت، امن و سلامتی اور روحانی بلندی کا ذریعہ بنائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رمضان المبارک انہوں نے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ