عالمی رہنماؤں کی جانب سے مسلمانوں کو رمضان المبارک کی مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان نے رمضان کا چاند نظر آنے پر مسلمانوں کو ماہ مقدس کی خصوصی مبارکباد دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ رمضان عبادت، روزہ، دعا اور خیرات میں مشغول رہنے کا مہینہ ہے اور یہ خدا کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا مقدس موقع فراہم کرتا ہے، رمضان روحانی تجدید کے ساتھ ساتھ خاندانی اور سماجی رشتوں کو بھی مضبوط کرتا ہے اور ہمدردی، خیرات، رحمت اور عاجزی جیسی مشترکہ انسانی اقدار کو فروغ دیتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مسلمانوں کو رمضان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ امید، مدد اور بہتر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے کا وقت ہے۔ برطانوی بادشاہ شاہ چارلس نے رمضان المبارک کے آغاز پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ مقدس مہینہ صبر، ہمدردی، سخاوت اور روحانی غور و فکر کی یاد دہانی کراتا ہے اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان احترام اور اتحاد کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے رمضان کو برداشت، یکجہتی اور انسان دوستی کے فروغ کا مہینہ قرار دیا اور فرانس میں مسلم کمیونٹی کی سماجی خدمات اور قومی زندگی میں کردار کو سراہا، کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کورنی نے کہا کہ رمضان مسلمانوں کے لیے روحانی مضبوطی، خیرات اور کمیونٹی سروس کا مہینہ ہے اور کینیڈا مذہبی آزادی اور تنوع کو اپنی طاقت سمجھتا ہے۔
جرمن چانسلر فریڈک مرز نے امن، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جرمنی میں مقیم مسلمانوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اٹلی کے صدر سر گیئو میٹریلا نے رمضان المبارک کو انسانی اقدار، قربانی اور باہمی یکجہتی کا مہینہ قرار دیا اور مسلمانوں کے لیے خیرسگالی کا پیغام دیا۔
یہ عالمی رہنماؤں کے پیغامات مسلمانوں کے لیے احترام، یکجہتی اور خیر سگالی کے جذبے کا مظہر ہیں اور رمضان المبارک کی عالمی سطح پر پذیرائی کو اجاگر کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مسلمانوں کے لیے رمضان المبارک کا مہینہ کہا کہ ہے اور
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔