موبائل فونز پر 20 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:حکومت نے درآمد شدہ موبائل فونز پر 20 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لگانے پر غور شروع کردیا۔
وفاقی حکومت ایک نئی پالیسی کے تحت درآمدی موبائل فونز پر 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس کا مقصد مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا اور ری فربشڈ فونز کی برآمدات میں 400 ملین ڈالرز تک کا حصول ہے۔
مجوزہ اقدامات انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی طرف سے حتمی شکل دیے گئے موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ فریم ورک کا حصہ ہیں، جسے منظوری کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کو پیش کیا جائے گا۔
بتایا گیا ہے کہ حکام موبائل فونز کے مکمل طور پر تعمیر شدہ یونٹس (سی بی یو) کی درآمد پر 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ اقدام ٹیکس کی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرے گا، فی الحال مکمل طور پر اسمبل شدہ ہینڈ سیٹس کی درآمد پر کوئی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نہیں لگائی جاتی ہے۔
منصوبے کے تحت لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپس اور ٹیبلیٹس کے مکمل طور پر تعمیر شدہ یونٹس پر بھی 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی جائے گی جبکہ مکمل طور پر بند یونٹس پر ڈیوٹی 5 فیصد سے شروع ہو کر بتدریج 10 فیصد تک پہنچ جائے گی۔
معلوم ہوا ہے کہ فریم ورک میں موبائل فونز اور الیکٹرانک آلات کی مقامی مینوفیکچرنگ کو سپورٹ کرنے کے لیے 56 ارب روپے کے ٹیکنالوجی سرمایہ کاری فنڈ کا قیام بھی شامل ہے۔
پالیسی کا ایک اہم جزو تجدید شدہ (ری فربشڈ) موبائل فونز اور لیپ ٹاپس کو دوبارہ ایکسپورٹ کرنا ہے جس میں سالانہ 30 سے 40 ملین آلات کی برآمد متوقع ہے جس سے برآمدی آمدنی میں 300 ملین سے 400 ملین ڈالرز کے درمیان اضافے کا امکان ہے۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایکسائز ڈیوٹی موبائل فونز پر 20 فیصد
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔