کراچی؛ عدالت کا موبائل ایپ سے پیسے کاٹنے کے باوجود پیکیج نہ کرنے پر کمپنی سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
کراچی:
کنزیومر کورٹ شر قی نے موبائل ایپ سے پیسے کاٹنے کے باوجود پیکج نہ کرنے پر شہری کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے کمپنی سے جواب طلب کرلیا۔
کراچی کے شہری نے نجی موبائل سم کمپنی کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا اور مذکورہ کمپنی پر 20 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا۔
درخواست گزار نے 6 مہینے تک پیکج کی سہولت دینے کی بھی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ نجی کمپنی کی ایپ سے ویکلی پیکج کروایا، 823 روپے کاٹ لیے لیکن پیکج نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی کے ریجنل آفس نے بھی مسئلے کو حل نہیں کیا، لیگل نوٹس بھیجنے پر بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا، پیکج نہ ہونے سے رابطہ نہیں ہوا اور درخواست گزار کے ہاتھ سے کلائنٹ اور فیس نکل گئی۔
درخواست گزار نے استدعا کیا کہ ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی سیکیورٹی پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے، کمپنی نے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے۔
کنزیومر کورٹ شر قی نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کمپنی سے جواب طلب کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔