مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں آئی ٹی برآمدات میں تقریباً 20 فیصد اضافہ، 2.61 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
پاکستان کی انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) برآمدات میں مالی سال 2025-26 کے پہلے 7 ماہ کے دوران 19.78 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد برآمدی آمدن 2.61 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ وزارت آئی ٹی کے مطابق یہ شعبہ بدستور ملک کا سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے والا سروس سیکٹر بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:معیشت استحکام کی جانب گامزن، حکومت ہر فرد کو نوکری نہیں دے سکتی، وزیر خزانہ
میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں آئی سی ٹی برآمدات 2.
پاکستان کا آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلقہ خدمات کا شعبہ تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں شامل ہے، جو سالانہ 3 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ فراہم کرتا ہے۔ اس شعبے سے تقریباً 10 لاکھ فری لانسرز اور متعدد سافٹ ویئر کمپنیاں وابستہ ہیں۔
روایتی برآمدات کے برعکس آئی ٹی سروسز زیادہ تر آن لائن اور ریموٹ کام پر مشتمل ہوتی ہیں، جیسے سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، آؤٹ سورسنگ اور بیک آفس خدمات۔ اس شعبے کو کم درآمدی اخراجات، نوجوان افرادی قوت اور فری لانسرز کی بڑی تعداد کا فائدہ حاصل ہے، تاہم ادائیگیوں کے مسائل، ماہر افرادی قوت کی بیرون ملک منتقلی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری جیسے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کو 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا عزم، حکومت اور چیمبر آف کامرس کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط
وزارت آئی ٹی کے مطابق آئی سی ٹی بدستور ملک کا سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے والا سروس سیکٹر ہے، جبکہ اسی عرصے میں دیگر کاروباری خدمات سے 1.21 ارب ڈالر حاصل ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مزید ترقی کے لیے ادائیگیوں کے نظام میں آسانی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری اور روایتی آؤٹ سورسنگ سے آگے بڑھ کر اعلیٰ معیار کی ٹیکنالوجی خدمات کو فروغ دینا ضروری ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ٹی برآمدات انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی پاکستانی معیشت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ٹی برا مدات پاکستانی معیشت ارب ڈالر کے مطابق آئی ٹی
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
پشاور (نیوز ڈیسک) سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی، پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی سرکاری پنشنرز کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا اور اس سے تمام صوبائی سرکاری پنشنرز مستفید ہو سکیں گے۔
محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پنشن میں اضافے کے حوالے سے اہم نکات اور شرائط واضح کی گئی ہیں۔
جس میں کہا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ 30 جون 2026 تک حاصل کردہ نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا اور یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے کے حقدار ہوں گے۔
یہ اضافہ فیملی پنشن اور کمپیشنٹ الاؤنس کے کیسز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم صوبائی حکومت کے اہل پنشنرز بھی مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ پہلے سے ملنے والی کسی بھی “خصوصی اضافی پنشن” پر لاگو نہیں ہوگا۔
خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام کو صوبے کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے موجودہ معاشی صورتحال میں ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے