ماتلی: غیرمتعلقہ شخص کے نام پر چلنے والی ڈیوائس کو انتظامیہ نے بلاک کردیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی(جسارت نیوز)شہر میں چلنے والی اور گولارچی کے ایک شخص کے نام پر رجسٹرڈ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی ایک ڈیوائس کو انتظامیہ نے بلاک کر دیا ہے۔ یہ کارروائی میڈیا کی نشاندہی اور عوامی شکایات کے بعد عمل میں لائی گئی۔ ذرائع کے مطابق ماتلی کی ایک خاتون نے شکایت درج کرائی تھی کہ متعلقہ ڈیوائس ایجنٹ نے اس کی امدادی رقم میں سے دو ہزار روپے کی غیر قانونی کٹوتی کی، جس کے بعد معاملہ میڈیا میں سامنے آیا اور دیگر متاثرین کی جانب سے بھی شکایات موصول ہوئیں۔ شکایات پر بی آئی ایس پی انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا، جس کے دوران الزامات درست ثابت ہونے پر متعلقہ ڈیوائس کو فوری طور پر بلاک کر دیا گیا۔ بی آئی ایس پی حکام کا کہنا ہے کہ مستحقین کی امدادی رقم میں کسی قسم کی کٹوتی یا بدعنوانی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی، جبکہ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ غیر قانونی کٹوتی یا کسی بھی شکایت کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ دفتر یا ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔