امارات: سوشل میڈیا پر بھیک مانگنے والوں کو سزائیں اور جرمانے
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ابوظبی (انٹرنیشنل ڈیسک) دبئی پولیس نے رمضان المبارک کے دوران رہائشیوں کو آن لائن بھیک مانگنے اور جعلی عطیات کی اپیلوں میں اضافے پر خبردار کر دیا ۔ حکام کے مطابق پیشہ ور گداگر اور نوسرباز سوشل میڈیا اور مختلف ویب سائٹس کے ذریعے لوگوں کے جذبہ سخاوت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زکوٰۃ اور عطیات صرف سرکاری طور پر منظور شدہ فلاحی اداروں کے ذریعے ادا کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔پولیس کے مطابق آن لائن بھیک مانگنے والوں کو 3ماہ تک قید اور 10 ہزار درہم جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔حکام نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی چندہ مہمات اور جعلی اپیلوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔