بھارت کی امریکا میں ریاستی دہشت گردی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حال ہی میں عالمی میڈیا کی رپورٹوں میں بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سنگین جرائم کو آشکار کیا ہے۔ ان رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں، خاص طور پر ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) نے دوسرے ممالک میں مخالفین یا مبینہ دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے کرائے کے قاتلوں کو استعمال کیا۔ یہ واقعات امریکا، کینیڈا اور پاکستان جیسے ممالک سے سامنے آئے ہیں، جو عالمی سفارتی تعلقات کو متاثر کر رہے ہیں۔ ہم ان واقعات کی تفصیلات، متعلقہ ممالک اور گرفتاریوں کا جائزہ لیں گے، جو دستیاب حقائق پر مبنی ہے۔ بھارتی ملزم کا امریکی عدالت میں قتل ِ سازش کا اعتراف تو دنیا کے سامنے آگیا ہے۔ سکھ علٰیحدگی پسند رہنما گرپتونت سنگھ پنن کو قتل کرنے کی سازش کرنے والے 54 سالہ بھارتی شہری نکھل گپتا نے نیویارک کی وفاقی عدالت میں کرائے کے قتل، قتل اور منی لانڈرنگ کی سازش کے تین سنگین الزامات کا اعتراف کر لیا ہے۔ عدالت نے اسے 40 سال تک قید کی سزا دی ہے، جو امریکی سرزمین پر غیر ملکی مداخلت کی ایک نئی مثال بن گیا ہے۔ سازش کی تفصیلات میں استغاثہ کے مطابق، مئی 2023 میں بھارتی حکومت کے مبینہ افسر وکاش یادو نے، جو کابینہ سیکرٹریٹ (جس میں ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ یا را شامل ہے) سے وابستہ تھے، گپتا کو پنن کے قتل کی ہدایت دی۔ دہلی میں ملاقات کے بعد گپتا نے نیویارک میں DEA کا خفیہ افسر (جسے اس نے ہٹ مین سمجھا) سے رابطہ کیا اور پنن کا گھر کا پتا، فون نمبر اور روزمرہ شیڈول شیئر کیا۔ گپتا نے نہ صرف مالی لین دین کی منصوبہ بندی کی بلکہ ہردیپ سنگھ ننجر (کینیڈا میں جون 2023 میں قتل) کو بھی ’’ہدف‘‘ قرار دیا اور کہا، ’’ہمارے پاس بہت سے اہداف ہیں‘‘۔ یہ سازش کینیڈا کے ننجر قتل سے براہ راست جڑی ہوئی ہے، جس پر کینیڈا نے بھارت کو موردِ الزام ٹھیرایا تھا۔ ’’گپتا نے سوچا کہ امریکا سے باہر بیٹھ کر امریکی شہری کو مار سکتا ہے، صرف آزادیِ اظہار کے جرم میں۔ وہ غلط تھا، انصاف ملے گا‘‘۔ گپتا کا اعتراف مودی حکومت کے امریکی سرزمین پر کرائے کے قتل کی عدالتی تصدیق ہے۔
’’بھارتی حکومت نے ان واقعات سے مکمل انکار کیا اور پنن کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا، جبکہ وہ خود کو خالصتان کا سرگرم کارکن کہتے ہیں۔ خالصتان تحریک بھارت میں سکھوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ ہے، جو پنجاب میں بھارت نے سرکاری دہشت گردی سے تو دبا دی ہے مگر یورپ، امریکا اور کینیڈا میں زندہ ہے۔ یہ پہلا کیس ہے جہاں بھارتی شہری نے عدالت میں الزامات قبول کیے، جو پاکستان (شاہد لطیف، محمد ریاض کے قتل) اور دیگر الزامات کو تقویت دیتا ہے۔ امریکا نے بھارتی ڈپلومیٹس کو تنبیہ کی جبکہ عالمی برادری تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ سکھ کمیونٹی اسے ’’ریاستی دہشت گردی‘‘ قرار دے رہی ہے۔
امریکا میں بھارت پر سب سے نمایاں الزام سکھ علٰیحدگی پسند گروہوں کے خلاف کارروائیوں سے جڑا ہے۔ 2023 میں، کینیڈا کے سکھ رہنما ہرجیت سنگھ نلوی کے قتل کے بعد، امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ بھارتی ایجنٹ نکھل گپتا نے کینیڈین شہری پروین (پنن) کو قتل کرنے کی سازش کی۔ گپتا، جو بھارتی شہری ہے، کو نیویارک میں گرفتار کر لیا گیا اور فی الحال مقدمہ چل رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ٹرانس نیشنل ریپریشن کی مثال ہے، جہاں ایک ملک اپنے مخالفین کو دوسرے ملک میں ہدف بناتا ہے۔ بی بی سی رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ انڈین انٹیلی جنس نے گپتا کو استعمال کیا، جو کرائے کا قاتل تھا۔ یہ واقعات 2026 تک مزید شدت اختیار کر چکے ہیں، جہاں امریکا نے بھارتی ڈپلومیٹس کو تنبیہ کی۔
کینیڈا میں 18 جون 2023 کو ہرجیت سنگھ نلوی کا قتل ہوا، جو کینیڈین شہری اور سکھ فار ورکرز الائنس آف کینیڈا کے رہنما تھے۔ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمنٹ میں کہا کہ معتبر انٹیلی جنس سے پتا چلا ہے کہ بھارتی حکومت اس قتل میں ملوث ہے۔ اس کے نتیجے میں کینیڈا نے بھارتی ہائی کمشنر اور دیگر ڈپلومیٹس کو ملک بدر کیا۔ بھارت نے انکار کیا مگر تحقیقات جاری ہیں۔ رپورٹوں میں را کے ایک افسر کا نام آیا، جو دہلی سے ہدایات دے رہے تھے۔ یہ واقعہ کینیڈا بھارت تعلقات کی بدترین کشیدگی کا باعث بنا، اور 2026 تک بھی حل نہ ہو سکا۔ میٹا اے آئی لنکس میں بھی اس کی تفصیلات موجود ہیں، جو ویڈیو اور دستاویزات پر مبنی ہیں۔
پاکستان نے سب سے زیادہ الزامات لگائے ہیں۔ 2024 میں، پاکستان نے اعلان کیا کہ بھارتی ایجنٹوں نے دو پاکستانی شہریوں، شاہد لطیف اور راشد لطیف، کو کراچی اور سوات میں قتل کروایا۔ پاکستان نے ناقابل ِ تردید ثبوت پیش کیا، بشمول فون ریکارڈز اور مالی لین دین۔ پاکستان کے فارن سیکرٹری نے 2026 میں بھی بیان دیا کہ بھارت اسٹیٹ اسپانسرڈ دہشت گردی کر رہا ہے۔ پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ را نے کراچی میں نیٹ ورک بنایا تھا۔ یہ الزامات اقوام متحدہ میں بھی اٹھائے گئے۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ کی رپورٹ میں بھارت سمیت 12 ممالک پر ٹرانس نیشنل ریپریشن کا الزام لگا۔ آسٹریلیا اور یورپ میں سکھ مخالفین پر حملوں کی رپورٹیں آئیں مگر کوئی گرفتاری نہیں۔ اقوام متحدہ اور ہیومن رائٹس واچ نے بھارت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
گرفتاریوں کی تفصیل؛ امریکا: نکھل گپتا (2023، نیویارک) پنن قتل سازش۔ پاکستان: ملزمان کی شناخت ہوئی مگر بھارتی شہریوں کی گرفتاری کی تصدیق نہیں۔ کینیڈا: کوئی براہ راست گرفتاری نہیں، صرف ڈپلومیٹس ملک بدر کیے گئے۔ دنیا بھر میں بھارت کی ان سرگرمیوں کے ٹھوس ثبوت پیش کیے جا چکے ہیں اور یہ ثبوت واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ بھارتی دہشت گردی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ نہ صرف اپنی فلموں میں وہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں جا کر دہشت گردی کے نئے نیٹ ورک قائم کرتے ہیں، بلکہ وہاں پر اپنے نظریاتی مخالفوں کو قتل کرتے بھی ہیں جو کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ باوجود اس کے کہ دنیا نے بھارت کے اندر کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم مسلمانوں کے خلاف ہونے والی نفرت انگیز کارروائیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ہونے والی دہشت گردی پر چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے اور انہیں نظر انداز کر رہی ہے۔ یہ بات سنگین جرم کے طور پر سامنے آئی ہے اور اسے بھارت کے خلاف امریکا میں ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق واضح طور پر دیکھا گیا ہے کہ یہ صریحاً سرکاری طور پر بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے ایک امریکی شہری کو قتل کرنے کی سازش ہے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ سکھ برادری کے خلاف بھارت نے انسانی حقوق کی کئی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں بالکل اسی طرح جیسے مسلمانوں کے خلاف جو خود بھارت کے شہری ہیں اور ان مسلمانوں کے خلاف جو کشمیر کے شہری ہیں اور بھارت سے آزادی چاہتے ہیں اور اپنا حق خود ارادی مانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہمیں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ ہم پاکستان میں شامل ہوں یا ہندوستان میں لیکن بھارت نے ہمارا یہ حق غصب کر لیا ہے جو اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے۔ لیکن ہمیں وہ ہمارا جمہوری حق دینے کو تیار نہیں ہے۔ کیا اب بھی دنیا بھارت کو ایک دہشت گرد ریاست نہیں قرار دے گی۔
آج یہی سوال ہے ہمارا؟ کیا اقوام متحدہ بھارت کے جرائم کی پردہ پوشی کر رہی ہے۔ کیا وہ ان قراردادوں کا فیصلہ نہیں کرے گی جو اس کی سلامتی کونسل میں پڑی ہوئی ہیں۔ آج دنیا سوال کرتی ہے کہ بھارت کی ایک سازش پکڑی گئی ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ریاست دنیا میں قتل عام کراتی پھرتی ہے تو اسے کیا امن کا نوبل پرائز دیں یا دہشت گرد ریاست قرار دیا جائے گا؟ پاکستان کے اوپر تو باوجود اس کے کہ پاکستان سرکاری طور پر ایسے واقعات میں ملوث نہیں تھا بلکہ اس کے اندر جو دہشت گرد تنظیمیں بھارت کے فنڈز سے قائم ہوئیں ان کی کارروائیوں کی بنا پر پاکستان پر پابندیاں لگی یہ جانے بغیر کہ ان دہشت گرد تنظیموں کو کون فنڈنگ کر رہا ہے۔ آج امریکا میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ بھارت دہشت گرد ملک ہے اور سرکاری طور پر وہ دوسرے ملک کے شہریوں کے قتل عام میں ملوث ہے کیا اس کے علاوہ بھی کوئی اور ثبوت چاہیے؟؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارتی شہری ہے کہ بھارت امریکا میں انٹیلی جنس کہ بھارتی میں بھارت گیا ہے کہ بھارت نے بھارت کے بھارت کی نے بھارت ا گیا ہے کی سازش میں قتل کے خلاف گپتا نے رہی ہے کو قتل کے قتل
پڑھیں:
عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔
پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔