کراچی: سولجر بازار کی عمارت میں گیس لیکیج سے دھماکا، ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
کراچی کے علاقے سولجر بازار تین نمبر کی 1 رہائشی عمارت میں گیس لیکیج کے باعث دھماکے سے عمارت کا ایک حصہ گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکا سحری کے وقت ہوا، جاں بحق ہونے والے 13 افراد میں 4 بچے اور 3 خواتین بھی شامل ہیں۔
عمارت کے ملبے سے نکال کر 14 زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ملبے میں مزید افراد کے موجود ہونے کے خدشات کے باعث ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ڈی جی ریسکیو ون ون ٹو ٹو کے مطابق دھماکا گیس سلنڈر یا گیس کھینچنے والی مشین سے ہوا ہے۔
ڈپٹی کمشنر ایسٹ نصر اللّٰہ عباسی کے مطابق عمارت کے ملبے میں مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، دھماکے کی شدت سے عمارت متاثر ہوئی اور زمین بوس ہو گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ دھماکے سے تباہ ہونے والی عمارت 2 منزلہ ہے، تنگ گلیوں کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔