حکومت پاکستان اور پنجاب حکومت سکھ یاتریوں کی بہترین میزبانی کے لیے کوشاں، سردار رمیشن سنگھ اروڑا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
سیکریٹری مذہبی امور ڈاکٹر ساجد محمود چوہان کی زیر صدارت کرتار پور صاحب گردواہ گورننگ کونسل کے اجلاس میں صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیشن سنگھ اروڑا نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اور پنجاب حکومت سکھ یاتریوں کی بہترین میزبانی کے لیے کوشاں ہے۔
مزید پڑھیں: کرتارپور اور ننکانہ صاحب موٹر ویز سے منسلک، ’گرو نانک ایکسپریس وے‘ تعمیر کی منظوری
اجلاس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، وزارتِ خزانہ، پلاننگ کمیشن، وزارتِ دفاع، وزارتِ قانون و انصاف، وزارتِ اطلاعات و نشریات، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے نمائندے شریک ہوئے۔
سیکریٹری مذہبی امور نے کہا کہ کرتار پور صاحب راہداری پراجیکٹ انسان دوستی اور بین المذاہب ہم آہنگی کا مظہر ہے اور آنے والے یاتریوں کے لیے بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: سائیکل پر 102 کلومیٹر کا سفر کر کے کرتارپور پہنچنے والے کمسن طالبعلم کا والہانہ استقبال
اجلاس میں بھارتی آبی جارحیت اور سیلاب سے متاثرہ حصوں کی مرمت و بحالی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور 2 ہفتے کے اندر کونسل کا دوبارہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت حکومت پاکستان سردار رمیشن سنگھ سکھ یاتری صوبائی وزیر اقلیتی امور کرتار پور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب حکومت حکومت پاکستان سردار رمیشن سنگھ سکھ یاتری صوبائی وزیر اقلیتی امور کرتار پور کے لیے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔