سیکریٹری مذہبی امور ڈاکٹر ساجد محمود چوہان کی زیر صدارت کرتار پور صاحب گردواہ گورننگ کونسل کے اجلاس میں صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیشن سنگھ اروڑا نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اور پنجاب حکومت سکھ یاتریوں کی بہترین میزبانی کے لیے کوشاں ہے۔

مزید پڑھیں: کرتارپور اور ننکانہ صاحب موٹر ویز سے منسلک، ’گرو نانک ایکسپریس وے‘ تعمیر کی منظوری

اجلاس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، وزارتِ خزانہ، پلاننگ کمیشن، وزارتِ دفاع، وزارتِ قانون و انصاف، وزارتِ اطلاعات و نشریات، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے نمائندے شریک ہوئے۔

سیکریٹری مذہبی امور نے کہا کہ کرتار پور صاحب راہداری پراجیکٹ انسان دوستی اور بین المذاہب ہم آہنگی کا مظہر ہے اور آنے والے یاتریوں کے لیے بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: سائیکل پر 102 کلومیٹر کا سفر کر کے کرتارپور پہنچنے والے کمسن طالبعلم کا والہانہ استقبال

اجلاس میں بھارتی آبی جارحیت اور سیلاب سے متاثرہ حصوں کی مرمت و بحالی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور 2 ہفتے کے اندر کونسل کا دوبارہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب حکومت حکومت پاکستان سردار رمیشن سنگھ سکھ یاتری صوبائی وزیر اقلیتی امور کرتار پور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنجاب حکومت حکومت پاکستان سردار رمیشن سنگھ سکھ یاتری صوبائی وزیر اقلیتی امور کرتار پور کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ