مقبوضہ کشمیر کے فنڈز اترپردیش منتقل؟ بی جے پی پر بڑا الزام
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
مقبوضہ جموں و کشمیر کے ترقیاتی فنڈز کو بھارتی ریاست اترپردیش منتقل کرنے کے معاملے پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ غلام علی کھٹانہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ اترپردیش منتقل کر دیا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیری عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 11 کروڑ 52 لاکھ روپے میں سے 10 کروڑ 58 لاکھ روپے اترپردیش میں خرچ کیے گئے، جبکہ خطے کو خود شدید اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کا سامنا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی یہاں سے منتخب ہو کر بھی دیگر ریاستوں کو ترجیح دے رہی ہے، جس سے اس کے دعووں اور عملی اقدامات میں تضاد ظاہر ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کو پہلے ہی معاشی مشکلات اور ترقیاتی چیلنجز درپیش ہیں، ایسے میں فنڈز کی منتقلی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی ترقی اور وسائل کی تقسیم کے حوالے سے بحث کو جنم دے دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کشمیر کے
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔