بار بار ایک جیسے آرڈرز کیوں؟ پاسپورٹ سے متعلق مقدمات پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی ناراضی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاسپورٹ کی میعاد ختم ہونے کے باوجود تجدیدِ نو نہ کیے جانے کے خلاف دائر 2 مختلف مقدمات پر نوٹس جاری کرتے ہوئے وفاقی حکام سے جواب طلب کر لیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس خادم حسین سومرو نےاسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر طلب کرتے ہوئے اداروں کی کارکردگی پر سخت ریمارکس دیے۔
فاضل جج نے کہا کہ عدالت اس نوعیت کے کیسز میں پہلے بھی احکامات جاری کر چکی ہے، اس کے باوجود ایسے مقدمات بار بار کیوں سامنے آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس پر ڈپلومیٹک پاسپورٹ کیس میں فردِ جرم عائد
جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ اگر متعلقہ ادارے اپنا کام درست طریقے سے انجام دیں تو شہریوں کوعدالتوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ ججز یہاں کیا سارا دن پاسپورٹس کی تجدید کرانے کے لیے بیٹھے ہیں۔
عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کوئی بھی شہری خوشی سے عدالت نہیں آتا بلکہ مجبوری اور تکلیف کی وجہ سے رجوع کرتا ہے۔
فاضل جج کا کہنا تھا کہ اگر اداروں میں ہی مسائل حل ہونے لگیں تو عوام کو ریلیف کے لیے عدالتوں میں نہ آنا پڑے۔
مزید پڑھیں: 2026 کے سب سے طاقتور پاسپورٹس کونسے اور پاکستان کا نمبر کیا ہے؟ فہرست جاری
انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں سے لوگوں کو ریلیف ملتا ہے اور اگر یہ سلسلہ بند ہو جائے تو لوگ بھی آنا چھوڑ دیں گے۔
جسٹس خادم حسین سومرو کا کہنا تھا کہ بار بار ایک جیسے معاملات پر عدالت سے آرڈر کروانا تشویشناک ہے۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر وضاحت طلب کر لی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹارنی جنرل اسلام آباد ہائیکورٹ پاسپورٹ تجدید جسٹس خادم حسین سومرو ریلیف عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اٹارنی جنرل اسلام ا باد ہائیکورٹ پاسپورٹ ریلیف عدالت
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔