اسلام آباد: ترلائی امام بارگاہ حملے کے متاثرین کو وزیراعظم کی جانب سے امدادی چیکس جاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: 6 فروری کو ترلائی کے علاقے میں امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ امدادی رقوم کے چیکس پیش کر دیے گئے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے 36 جاں بحق افراد کے ورثاء کو فی شخص 50 لاکھ روپے کے چیکس فراہم کیے گئے۔ اس کے علاوہ تونسہ شریف، تلہ گنگ، استور اور اسکردو کے 4 جاں بحق افراد کے ورثاء کو بھی چیکس پہنچائے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے 11 فروری کو ترلائی امام بارگاہ کے دورے کے دوران ہر جاں بحق فرد کے اہل خانہ کو 50 لاکھ روپے کی امدادی رقم دینے کا اعلان کیا تھا۔
یاد رہے کہ 6 فروری کو نماز جمعہ کے دوران ہونے والے اس خودکش دھماکے میں 36 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔