تائیوان کے دارالحکومت تائی پے میں ایک 102 سالہ ارب پتی شخص کی دوسری خفیہ شادی کے باعث اسپتال میں اس وقت سنگین جھگڑے کی صورتِ حال پیدا ہوگئی، جب بزرگ کے بچے اپنے والد سے اسپتال میں ملنے آئے اور انہیں معلوم ہوا کہ ان کے والد نے اپنی دیکھ بھال کرنے والی ملازمہ لائی سے شادی کرلی ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے ان کی نگہداشت کر رہی تھی۔

یہ تنازعہ اس وقت مزید نازک صورت اختیار کر گیا جب بچوں نے جھگڑا کرتے ہوئے وہیل چیئر پر بیٹھے اپنے والد کو ہسپتال سے لے جانے کی کوشش کی۔

وہاں موجود لوگوں کی چیخ و پکار پر پولیس موقع پر پہنچ گئی، لیکن بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ یہ سب خاندانی رشتہ دار ہیں۔ اس جھگڑے میں بزرگ کی دیکھ بھال کرنے والی ملازمہ لائی زخمی ہو گئیں اور میڈیا کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انکی شادی کو صرف ایک ماہ ہوا ہے۔

یہ تنازعہ صرف خاندان کے اندرونی اختلافات تک محدود نہیں ہے۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ والد کو سالوں تک خاندان سے الگ رکھا گیا، ملاقاتیں اور رابطے محدود کیے گئے، اور اس دوران کئی جائیدادیں اور انشورنس پالیسیز لائی اور ان کے بچوں کے نام منتقل کر دی گئیں۔

ایک بیٹے نے کہا کہ یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ایک دیکھ بھال کرنے والی ملازمہ اچانک قانونی طور پر بیوی اور وارث بن گئی۔

خاندان کے مطابق، بزرگ شخص، وانگ، پہلے زمین کی خرید و فروخت کے کاروبار سے منسلک تھے اور ان کے پاس تقریباً 700 ملین نیو تائیوان ڈالرز کے اثاثے ہیں، جو پاکستانی روپوں میں 6 ارب، 91 کروڑ، 55 لاکھ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔

خاندان کا کہنا ہے کہ لائی نے دیکھ بھال کے دوران وانگ سے سات جائیدادیں اور سات پلاٹ کے علاوہ دس سے زائد انشورنس پالیسیز اپنے اور ان کے دو بچوں کے نام منتقل کروائی ہیں، جن کی مالیت تقریباً 200 ملین نیو تائیوان ڈالرز(تقریباً ایک ارب، 77 کروڑ، 13 لاکھ پاکستانی روپے) بنتی ہے۔ یہ سب کچھ بچوں کے علم کے بغیر ہوا۔

ادھر لائی نے الزامات کی تردید کی ہے اور بچوں کے خلاف تشدد اور جبر کے مقدمات درج کروائے ہیں اور حفاظتی حکم کے لیے بھی درخواست دی ہے۔ دونوں فریقین اب عدالت کے ذریعے اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

ماہر قانون لی یو شینگ کے مطابق، اگر خاندان یہ ثابت کر سکے کہ وانگ شادی یا جائیداد کی منتقلی کے وقت ذہنی طور پر فیصلہ کرنے کے قابل نہیں تھے، تو شادی کو کالعدم قرار دینے یا اثاثوں کی منتقلی کو منسوخ کرنے کے قانونی امکانات موجود ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: دیکھ بھال بچوں کے اور ان

پڑھیں:

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی