خفیہ شادی کا راز فاش ہونے پر 102سالہ ارب پتی بزرگ کی وہیل چیئر پر فرار کی کوشش
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
تائیوان کے دارالحکومت تائی پے میں ایک 102 سالہ ارب پتی شخص کی دوسری خفیہ شادی کے باعث اسپتال میں اس وقت سنگین جھگڑے کی صورتِ حال پیدا ہوگئی، جب بزرگ کے بچے اپنے والد سے اسپتال میں ملنے آئے اور انہیں معلوم ہوا کہ ان کے والد نے اپنی دیکھ بھال کرنے والی ملازمہ لائی سے شادی کرلی ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے ان کی نگہداشت کر رہی تھی۔
یہ تنازعہ اس وقت مزید نازک صورت اختیار کر گیا جب بچوں نے جھگڑا کرتے ہوئے وہیل چیئر پر بیٹھے اپنے والد کو ہسپتال سے لے جانے کی کوشش کی۔
وہاں موجود لوگوں کی چیخ و پکار پر پولیس موقع پر پہنچ گئی، لیکن بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ یہ سب خاندانی رشتہ دار ہیں۔ اس جھگڑے میں بزرگ کی دیکھ بھال کرنے والی ملازمہ لائی زخمی ہو گئیں اور میڈیا کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انکی شادی کو صرف ایک ماہ ہوا ہے۔
یہ تنازعہ صرف خاندان کے اندرونی اختلافات تک محدود نہیں ہے۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ والد کو سالوں تک خاندان سے الگ رکھا گیا، ملاقاتیں اور رابطے محدود کیے گئے، اور اس دوران کئی جائیدادیں اور انشورنس پالیسیز لائی اور ان کے بچوں کے نام منتقل کر دی گئیں۔
ایک بیٹے نے کہا کہ یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ایک دیکھ بھال کرنے والی ملازمہ اچانک قانونی طور پر بیوی اور وارث بن گئی۔
خاندان کے مطابق، بزرگ شخص، وانگ، پہلے زمین کی خرید و فروخت کے کاروبار سے منسلک تھے اور ان کے پاس تقریباً 700 ملین نیو تائیوان ڈالرز کے اثاثے ہیں، جو پاکستانی روپوں میں 6 ارب، 91 کروڑ، 55 لاکھ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔
خاندان کا کہنا ہے کہ لائی نے دیکھ بھال کے دوران وانگ سے سات جائیدادیں اور سات پلاٹ کے علاوہ دس سے زائد انشورنس پالیسیز اپنے اور ان کے دو بچوں کے نام منتقل کروائی ہیں، جن کی مالیت تقریباً 200 ملین نیو تائیوان ڈالرز(تقریباً ایک ارب، 77 کروڑ، 13 لاکھ پاکستانی روپے) بنتی ہے۔ یہ سب کچھ بچوں کے علم کے بغیر ہوا۔
ادھر لائی نے الزامات کی تردید کی ہے اور بچوں کے خلاف تشدد اور جبر کے مقدمات درج کروائے ہیں اور حفاظتی حکم کے لیے بھی درخواست دی ہے۔ دونوں فریقین اب عدالت کے ذریعے اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔
ماہر قانون لی یو شینگ کے مطابق، اگر خاندان یہ ثابت کر سکے کہ وانگ شادی یا جائیداد کی منتقلی کے وقت ذہنی طور پر فیصلہ کرنے کے قابل نہیں تھے، تو شادی کو کالعدم قرار دینے یا اثاثوں کی منتقلی کو منسوخ کرنے کے قانونی امکانات موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دیکھ بھال بچوں کے اور ان
پڑھیں:
میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
نیویارک شہر کے کم عمر باسکٹ بال شائقین کے لیے ’بیڈ ٹائم‘ سے متعلق ایک دلچسپ خبر سامنے آئی ہے۔
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ایک خصوصی انتظامی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ این بی اے فائنلز کے دوران بچوں کے سونے کے معمول کے اوقات عارضی طور پر منسوخ تصور کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی پسندیدہ ٹیم نیویارک نکس کے تمام میچز بلا رکاوٹ دیکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: نماز عیدالاضحیٰ: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی منفرد انداز میں شرکت
یکم جون کو جاری کیے گئے اس علامتی حکم نامے میں کہا گیا کہ سونے کے اوقات ’نیویارک کے سب سے پیارے بچوں‘ کو نکس کی حوصلہ افزائی کرنے اور میچ کا ایک ایک لمحہ دیکھنے سے نہیں روک سکتے۔
اس موقع پر میئر ممدانی کے ساتھ نکس کے رنگوں میں ملبوس بچوں کا ایک گروپ بھی موجود تھا، جنہوں نے اپنے ہاتھوں کے نشانات لگا کر علامتی طور پر اس حکم نامے پر دستخط کیے۔
Today, I signed an Executive Order temporarily repealing bedtimes in the City of New York so that kids of all ages can watch our team in the NBA Finals.
As Mayor, you’re forced to make many difficult decisions. This was not one of them.
Go Knicks. pic.twitter.com/DqjNtVh17h
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) June 1, 2026
میئر ممدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ میئر کی حیثیت سے آپ کو کئی مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، لیکن یہ ان میں سے ایک نہیں تھا۔
انہوں نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر ’گو نکس‘ کا نعرہ بھی لگایا۔
این بی اے فائنلز میں نیویارک نکس اور سان انتونیو اسپرس کے درمیان تمام میچز رات ساڑھے 8 بجے (مشرقی امریکی وقت) شروع ہوں گے۔
سیریز کے پہلے، تیسرے اور چوتھے میچ تعلیمی دنوں سے قبل رات کو کھیلے جائیں گے، جبکہ اگر ضرورت پڑی تو چھٹا میچ بھی اسکول کی رات میں ہوگا۔
ایسے میں بچوں کے لیے دیر تک جاگ کر میچ دیکھنا ایک اہم مسئلہ بن سکتا تھا۔
مزید پڑھیں: ظہران ممدانی کی نیو یارک میں اسٹیٹ ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
نیویارک نکس کی این بی اے فائنلز میں رسائی شہر بھر میں غیرمعمولی جوش و خروش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
یہ 1999 کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ نکس فائنلز میں پہنچی ہے، آخری بار فائنلز میں انہیں ٹم ڈنکن اور ڈیوڈ رابنسن کی قیادت میں سان انتونیو اسپرس نے شکست دی تھی۔
نکس کی 27 سالہ طویل انتظار کے بعد فائنلز میں واپسی نے باسکٹ بال کے دیوانے نیویارک شہر کو یکجا کر دیا ہے۔
اسپورٹس تجزیہ کاروں کے مطابق نیویارک میں نکس کا فائنلز میں پہنچنا سپر باؤل سے بھی بڑا واقعہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باسکٹ بال سان انتونیو اسپرس ظہران ممدانی میئر نیویارک نیویارک نکس