بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی قسط میں اضافہ، مستحق خواتین کو مالی ریلیف
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اسلام آباد: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے رمضان المبارک کی آمد پر مستحق خواتین کیلئے بڑی خوشخبری دیتے ہوئے سہ ماہی قسط میں ایک ہزار روپے اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے لاکھوں خواتین کو مالی ریلیف ملے گا۔
قسط میں اضافے کے بعد مستحق خواتین کو ملنے والی رقم ساڑھے 13 ہزار روپے سے بڑھا کر ساڑھے 14 ہزار روپے کر دی گئی ہے، اس اقدام کا مقصد مہنگائی کے دور میں کم آمدنی والے گھرانوں کی مالی مدد کو یقینی بنانا ہے۔
اس کے علاوہ بینظیر تعلیمی وظائف اور بینظیر نشوونما پروگرام کے وظائف میں بھی 500 روپے اضافہ کیا گیا ہے، جس سے بچوں کی تعلیم اور ماں و بچے کی صحت سے متعلق سہولیات حاصل کرنے میں مزید آسانی ہوگی۔
دوسری جانب روبینہ خالد کی زیر صدارت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہیڈکوارٹرز میں براہ راست ای کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں مستحق خواتین کے مسائل سنے گئے اور ان کے حل کیلئے فوری اقدامات کی ہدایات جاری کی گئیں۔
چیئرپرسن روبینہ خالد نے کہا کہ جن خواتین نے ڈیجیٹل والٹ کیلئے مفت سم حاصل نہیں کی، وہ فوری طور پر اپنے قریبی بی آئی ایس پی دفاتر سے رجوع کریں تاکہ ادائیگیوں کا عمل مزید شفاف اور آسان بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مستحق خواتین
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔