لائیو سیشن میں چند سیکنڈز کی غلطی، بیوٹی انفلوئنسر کے ڈیڑھ لاکھ فالوورز کم ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
چین میں ایک خاتون سوشل میڈیا انفلوئنسر کو لائیو اسٹریمنگ کے دوران بیوٹی فلٹر ہٹ جانے پر بھاری نقصان اٹھانا پڑ گیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق خاتون لائیو سیشن کے دوران مداحوں سے گفتگو کر رہی تھیں کہ اچانک ان کے چہرے سے بیوٹی فلٹر ہٹ گیا۔
چند سیکنڈز کی اس ویڈیو میں ان کی اصل شکل نمایاں ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین حیران رہ گئے۔
رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد تقریباً ڈیڑھ لاکھ (1.
چین میں لائیو اسٹریمنگ کا رجحان خاصا مقبول ہے، جہاں انفلوئنسرز براہِ راست اپنے مداحوں کے سوالات کے جواب دیتے اور مختلف مصنوعات یا موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں۔ بیوٹی فلٹرز کا استعمال بھی سوشل میڈیا کلچر کا عام حصہ بن چکا ہے۔
A Chinese female streamer reportedly lost 140,000 followers after the beauty filter she was using suddenly malfunctioned during a live stream and revealed her real face ???? pic.twitter.com/AvlC8fC2JG
— Clown World ™ ???? (@ClownWorld) February 16, 2026یہ واقعہ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر فلٹرز کے استعمال اور اصل و مجازی شخصیت کے فرق پر بحث کا سبب بن گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔